خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 331

خطبات طاہر جلد 17 وو 331 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء وہ اپنی جان بیچتے ہیں اور خدا کی مرضی کو مول لیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا کی رحمت ہے ایسا ہی وہ شخص جو روحانی حالت کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہے خدا کی راہ میں فدا ہو جاتا ہے۔(اب مول لینا جو ہے یہ فدا ہونے سے ورے ورے نہیں ہوسکتا۔فرمایا: ) جو شخص روحانی حالت کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہے ) خدا کی راہ میں فدا ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ تمام دکھوں سے وہ شخص نجات پاتا ہے جو میری راہ میں اور میری رضا کی راہ میں جان کو بیچ دیتا ہے اور جانفشانی کے ساتھ اپنی اس حالت کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ خدا کا ہے۔“ جانفشانی عمر بھر کرنی پڑتی ہے۔جان جو بیچی جاتی ہے کوئی ایک لمحہ کا سودا نہیں ساری زندگی کا سودا ہے۔مرتے دم تک، آخری سانس تک جو جان بیچی ہے اب بیچنے والے کی نہیں رہی۔پس یہ کوئی ایسا سودا نہیں جو اچانک کسی بکری کو کسی کے پاس بیچ دیا تھوڑا سا صدمہ اگر ہوا بھی تو اس کے بعد چھٹی کر لی۔یہ تو ایک ایسی جان کا سودا ہے جولمحہ لمحہ جینے والی جان ہے اور لمحہ لمحہ مرنے والی جان ہے۔ہزار موتیں اسے خدا کی خاطر قبول کرنی ہوں گی اور ہزار زندگیاں ہر موت کے بدلے اسے ملیں گی۔پس یہ ہے مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ کہ جو اپنے نفس کو اللہ کی خاطر بیچ دیتا ہے۔فرمایا: ”جانفشانی کے ساتھ اپنی اس حالت کا ثبوت دیتا ہے۔یہ نہیں کہ ایک دفعہ بیچ دیا اور بات ختم ہوگئی۔بہت سے واقفین زندگی ہم نے دیکھے ہیں جنہوں نے کسی خاص لمحہ عشق میں اپنی جان کو خدا کے سپر د کر دیا اور اس کے بعد چھٹی کر لی۔پھر ساری عمر ایسی حرکتیں کرتے رہے جو جان بیچنے والے نہیں کیا کرتے۔اللہ تعالیٰ ایسوں کو پکڑتا ہے اور لازماً ان کا بد انجام ہوتا ہے۔کبھی بھی وہ اس حالت میں نہیں مرتے کہ گویا جان بیچنے والے تھے۔تو جان کا سودا تو پہلے کا ہے اور اس سودے کے حق میں ثبوت بعد میں مہیا ہوتے ہیں۔ساری زندگی مہیا ہوتے رہتے ہیں۔اس حالت کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ خدا کا ہے اور اپنے تمام وجود کو ایک ایسی چیز سمجھتا ہے 66 جو طاعت خالق اور خدمت مخلوق کے لئے بنائی گئی ہے۔“ اب ایک اور پہلو بھی خدا کی خاطر جان بیچنے کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے کھول دیا۔فرمایا کہ وہ خدا کی خاطر جان بیچتا ہے تو خدا کی مخلوق کی خاطر بھی بیچتا ہے۔خدا کی