خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 22

خطبات طاہر جلد 17 22 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء باللہ من ذالك پاکستان کے عوام کے خلاف کوئی بددعا دوں لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے ایک الہام سے ظاہر ہے کہ جولوگوں کے اوّل صف کے لوگ ہیں، ان کے لیڈر ہیں ان میں سے شریروں کو مٹا دے تو یہ دعا ہمیشہ مولوی جان بوجھ کر توڑتے مروڑ تے اور عوام الناس کو کہتے ہیں تمہارے خلاف بددعا دی ہے۔یہ بالکل جھوٹ ہے۔نہ میں آپ سے توقع رکھتا ہوں نہ میں نے کبھی کی۔ہماری تو ہرممکن کوشش یہ ہے کہ پاکستان کے عوام اپنے ملانوں کی ذلت کی مار سے بچائے جائیں جو آخران پر پڑنی ہے کیونکہ جس قسم کے راہنما ہوں آخر ان کی قوم علماء کی بدحرکتوں کے نتائج سے بچ نہیں سکتی۔یہ وہ سلسلہ ہے جس کے متعلق میں نے یہ بیان کیا تھا: ”اے خدا ! اب ان سب فرائین کی صف لپیٹ دے جو مسلسل تکبر میں اور جھوٹ میں پہلے سے بڑھ بڑھ کر چھلانگیں لگا رہے ہیں اور ظلم اور بے حیائی سے باز نہیں آرہے۔پس ہمارے لئے یہ سال یا اس سے اگلا سال ملا کر ان سب کو ایسا فیصلہ کن کر دے۔( یعنی ان دونوں سالوں کو ) کہ یہ صدی خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دشمن کی پوری نا کامی اور نامرادی کی صدی بن کر ڈوبے اور نئی صدی احمدیت کی نئی شان کا سورج لے کر ابھرے۔یہ وہ دعائیں ہیں جو اس رمضان میں میں چاہتا ہوں کہ آپ بطور خاص کریں۔“ (خطبات طاہر جلد 16 صفحہ : 28، 29، خطبہ جمعہ 10 جنوری 1997ء) یہ جو حصہ ہے، اگلا سال، ان شیاطین کو مٹادے جو فراعین ہیں اور تکبر میں مبتلا ہیں۔پاکستان کی ساری تاریخ آغاز سے لے کر اب تک کی اس بات پر گواہ ہے اور اب پاکستان کے اخباروں میں یہ اعدادو شمار بڑی نمایاں سرخیوں کے ساتھ شائع ہورہے ہیں کہ اس سال جس کثرت سے ملاں ہلاک ہوا ہے اور غیر طبعی موت مرا ہے اور بعض ملاؤں کی لاشیں کتوں کی طرح بازاروں میں گھسیٹی گئی ہیں یہ ایک دوسرے پر ہی مار پڑ رہی ہے۔یہ جو وبال ہے یہ سال بتا رہا ہے کہ ہماری دعائیں قبول ہوئیں۔یہ کہتے ہیں تمہاری دعا ئیں نہیں یہ ویسے ہی ہو گیا ہے۔یہ ویسے کیسے ہو گیا ، ساری عمر کبھی نہیں ہوا اللہ تعالیٰ کو بیٹھے بیٹھے یہ کیا خیال آگیا کہ جو احمدیت کے اشد ترین دشمن ہیں ان کو ایک دوسرے کے ہاتھوں مروا یا جائے اور سو فی صد ثابت ہو کہ اس میں جماعت احمدیہ کا کوئی ہاتھ نہیں۔کہتے تو ہیں کہ جماعت احمدیہ کا ہاتھ ہے مگر جب پوچھا جائے کہ دکھاؤ وہ ہاتھ کہاں ہے تو کچھ سمجھ نہیں آتی۔یہ جانتے