خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 21 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 21

خطبات طاہر جلد 17 21 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء مگر تمہارے پکڑنے کے دن آئیں گے اور لازماً آئیں گے یہ وہ تقدیر ہے جسے تم ٹال نہیں سکتے۔میں آج اس جمعہ میں اعلان کرتا ہوں کہ لازماً تم پر ذلتوں کی مار پڑنے والی ہے۔“ (خطبات طاہر جلد 16 ، صفحہ :24، خطبہ جمعہ 10 جنوری 1997ء) ان کے اپنے اقرار سے میں جلسہ سالانہ پر انشاء اللہ آپ کو دکھاؤں گا کہ یہ سال سو فیصد اس مباہلہ کے حق میں جو جماعت احمدیہ نے پیش کیا تھا گواہی دے چکا ہے اور ان گواہیوں کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا تو ایک دوسرے کے متعلق کہہ رہے ہیں کہ تم یہ ذلتوں کی مار پڑی ہوئی ہے اور یہی مار ہے جو انشاء اللہ اگلے سال بھی جاری رہے گی۔اس تقدیر کو بدل کے دکھاؤ تب میں اس بات کو قابل قبول سمجھوں گا کہ تم سے مزید گفتگو کی جائے یا نہ کی جائے۔پہلے یہ مباہلہ کا سال تو نپٹا لو۔میں جو اعلان کر رہا ہوں کہ تم پر لازماً کھلی کھلی خدا کی مار پڑنے والی ہے اس کو بدل کے دکھا دو جب بدل دو گے تو پھر آ کے بات کرنا کہ آئیے اب مناظرہ بھی کر لیجئے۔اب مناظرے کے رستے بند ہیں اور یہ الہی فیصلہ ہے جو جاری ہونے والا ہے اور ہو کے رہے گا۔یہ ہے اعلان مباہلہ کا۔جہاں تک جماعت کا تعلق ہے میں نے جماعت کو یہ نصیحت کی تھی : پس اس جمعہ پر میں ایک فیصلہ کن رمضان کی توقع رکھتے ہوئے۔( یہ گزشتہ سال کا رمضان تھا جس کو میں کہہ رہا ہوں کہ فیصلہ کن رمضان ہے ) جماعت احمدیہ کو تاکید کرتا ہوں کہ اس رمضان کو خاص طور پر ان دعاؤں کے لئے وقف کر دیں کہ اے اللہ ! اب ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ فرما کہ تو احکم الحاکمین ہے، تجھ سے بہتر کوئی فیصلہ فرمانے والا نہیں۔(خطبات طاہر جلد 16 ، صفحہ: 27، خطبہ جمعہ 10 جنوری 1997ء) مجھے یقین ہے کہ جماعت نے اس نصیحت کو پلو سے باندھ لیا اور دعائیں کیں۔اگر یہ دعائیں نہ کی ہوتیں تو یہ نتیجہ ظاہر نہ ہوتا جو آپ کے سامنے ہے، سب دُنیا کے سامنے ہے۔پھر جن لوگوں کے متعلق دعا ہے عامتہ الناس کے مٹائے جانے کی کوئی دعا نہیں بلکہ ہمیشہ میں اس سے گریز کرتا ہوں کہ نَعُوذُ