خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 327
خطبات طاہر جلد 17 327 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء دیکھ لیں۔تو وہ لوگ جو خدا کی خاطر ہمیشہ اس انتظار میں رہتے ہیں یا خدا کے پیار کی نظروں کے لئے ہمیشہ اس انتظار میں رہتے ہیں ان پر پھر اللہ تعالیٰ پیار کی نظریں ڈالا بھی کرتا ہے۔یہ خوشخبری ہے جو اس کلام میں مضمر ہے۔آنحضرت سی پیہم بھی جانتے تھے کہ کون کون آپ مسایل اینم کی پیار کی نظروں کا خواہاں ہے اللہ تو بہت زیادہ جانتا ہے۔پس اگر اپنی باقی زندگی ایسے حال میں صرف کریں کہ آپ کو یہ امید رہے، یہ انتظار رہے کہ کبھی تو کوئی ایسی بات ہم سے ظہور ہو کہ خدا کے پیار کی ہم پر نظر پڑے۔تو یاد رکھیں کہ یہ بعید نہیں ہے۔جس کی اپنے رب سے یہ توقع ہے اللہ ان توقعات کو پورا کرنا جانتا ہے۔توفیق بھی وہی دیا کرتا ہے۔پس اس پہلو سے حقیقت میں سلم یعنی مقام امن ، وہ فرمانبرداری کا دائرہ جس کو سلم کہا گیا ہے جس کو دوسرے معنوں میں مقامِ امن ، مقام محبت سرائے ما بیان کرتا ہوں۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السّلْمِ كَافَةُ : پس اے لوگو جو ایمان لائے ہو اس مسلم یعنی خدا کی محبت کے امن کے دائرہ میں تمام تر داخل ہو جاؤ۔کاف کے دو معنی ہیں۔ایک یہ کہ ہر داخل ہونے والا یہ دیکھے کہ اس کا کوئی دامن کا حصہ باہر تو نہیں رہاوہ پورے کا پورا خدا کی محبت کے امن کے دائرہ میں داخل ہو چکا ہے کہ نہیں کیونکہ ایک ذرہ بھی اس کا اس دائرہ سے باہر رہا تو وہ خطرہ میں ہے۔دوسرے گاف سے مراد یہ ہے کہ تمام مومن چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں وہ سارے کے سارے داخل ہوں تا کہ مومنوں کی ایک جماعت خدا تعالیٰ کی محبت کی طالب بن کر اپنی زندگی بسر کرے اور اس کا نتیجہ یہ نکلے گا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشیطن ایسے لوگ جو اس محفوظ دائرہ میں آجائیں گے ان کے لئے ممکن ہی نہیں رہتا کہ وہ شیطان کے قدموں کی پیروی کریں۔پس اگر چہ یہ ایک زائد بات معلوم ہوتی ہے اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو مگر یہ حقیقت میں اس کا نتیجہ ہے کہ ایسا کرو گے تو تمہیں یہ توفیق نصیب ہوگی کہ جو خدا کے محبت کے دائرہ میں بیٹھا ہے اس کے لئے ممکن ہی کیسے ہے کہ وہ باہر نکل کر شیطان کے قدموں کی پیروی کرے۔یہ دو متضاد باتیں ہیں بیک وقت ہو ہی نہیں سکتیں۔اور شیطان کے متعلق فرمایا انَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ تُمبِین جہاں بھی تم نے اسے موقع دیا کہ تمہیں پھسلائے جان لو کہ وہ ضرور تمہیں ہلاکت میں مبتلا کرے گا کیونکہ وہ تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔تو اس واضح تنبیہ کے بعد کسی مومن کے لئے یہ امکان ہی باقی نہیں رہتا کہ وہ خدا کی محبت کے دائرہ سے باہر کوئی سانس