خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 317
خطبات طاہر جلد 17 317 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء وو مراد وہ شخص ہے جس کی ہر بات صداقت اور راستی ہونے کے علاوہ اس کے ہر حرکات وسکنات وقول سب صدق سے بھرے ہوئے ہوں۔گویا یہ کہو کہ اس کا وجود ہی صدق ہو گیا ہو۔(یہ مکمل سچائی بن چکا ہے۔) اور اس کے اس صدق پر بہت سے تائیدی نشان اور آسمانی خوارق گواہ ہوں۔“ الحکم جلد 5 نمبر 44 صفحہ:11، مؤرخہ 30 نومبر 1901ء) یہ دوسرا پہلو میں نے پہلے بھی کھول کر بیان کر دیا تھا اس لئے مزید تفصیل میں میں نہیں جاتا۔یہ سمجھاتا ہوں کہ یہ صدق کوئی چھپی رہنے والی بات نہیں ہے جس کو یہ صدق نصیب ہو، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ اس کی تائید میں نشانات نہ ظاہر فرمائے اور اللہ تعالیٰ جو نشانات ظاہر فرماتا ہے وہ دنیا دیکھتی ہے اور دیکھ سکتی ہے اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اس کو خدا تعالیٰ آئندہ کی خوشخبریاں دیتا ہے، دشمنوں کے ارادوں سے متنبہ فرماتا ہے۔یہی نہیں سینکڑوں ہزاروں اور طریق ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اپنے صادق بندے سے ایسا تعلق رکھتا ہے جو تعلق بولتا ہے، دل سے اُچھلتا ہے اور اس کے ماحول میں پھیل جاتا ہے اور لوگ اس خدا کے تعلق کی وجہ سے جانچ سکتے ہیں کہ یہ صادق ہے۔اس صدق پر بہت سے تائیدی نشان اور آسمانی خوارق گواہ ہوں۔“ خوارق سے مراد یہ ہے کہ عام نشانات نہیں بلکہ ایسے نشانات جو روز مرہ کے قانون سے ہٹ کر دکھائی دیتے ہیں، اتنے غیر معمولی ہوتے ہیں کہ کوئی آدمی جو تعصب سے پاک ہو وہ ان کا انکار کر ہی نہیں سکتا۔ایسے خوارق کثرت سے آنحضرت صلی یہ تم کو عطا ہوئے اور ایسے خوارق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی عطا ہوئے۔مثلاً پاگل کتے کے کاٹے ہوئے کا جو عبدالکریم پر اثر تھا اور ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ اس کا کوئی علاج ہو ہی نہیں سکتا۔جب وہ پاگل پن عود کر آیا ، دوبارہ حملہ کیا تو چوٹی کے ڈاکٹروں نے جو اس فن کے ماہر تھے یہ تار بھیجا کہ کچھ نہیں کیا جاسکتا۔Nothing can be done for Abdul Karim" مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کی اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ عبد الکریم ٹھیک ہو جائے گا۔آج تک اس عبد الکریم کی نسل حیدر آباد دکن میں موجود ہے اور بہت کثرت سے پھیل چکی ہے۔ان میں سے ہر ایک زندہ گواہ بن گیا ہے۔اس کو کہتے ہیں خوارق کا ظہور۔" تتمہ حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ:481،480)