خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 310 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 310

خطبات طاہر جلد 17 310 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء کہ یہ ایسی قوم ہیں کہ ان کا ساتھی محروم اور بد بخت نہیں رہ سکتا۔کتنی عظیم الشان خوشخبری ہے۔ایک انسان اگر براہِ راست صحبت سے استفادے کا فیصلہ نہ بھی کرے، یہ نیت لے کر نہ بھی بیٹھے ویسے ہی چلتا ہوا تھک کر کسی ایسی صحبت میں بیٹھ جائے اس کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ”اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صادقوں کی صحبت سے کس قدر فائدے ہیں۔سخت بدنصیب ہے وہ شخص جو صحبت سے دور ہے۔غرض نفس مطمئنہ کی تاخیروں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اطمینان یافتہ لوگوں کی صحبت میں اطمینان پاتے ہیں۔“ نفس مطمئنہ وہ نفس ہے جو اللہ تعالیٰ سے کامل طور پر راضی ہو چکا ہو اور یہ جو ہے اللہ کے ذکر سے اطمینان پانا اس کی ایک یہ صورت ہے کہ ان لوگوں کے پاس بیٹھو جو مجسم ذکر ہو چکے ہوں اور نفس مطمئنہ رکھتے ہوں۔ان کے دل میں کسی اور طرف رخ کرنے کی کوئی خلش نہیں ہوتی ، صرف اللہ ان کے لئے کافی ہو جاتا ہے اور خدا ہی کی ذات میں رہتے ہیں۔فرمایا: ”نفس مطمعنہ کی تاثیروں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اطمینان یافتہ لوگوں کی صحبت میں اطمینان پاتے ہیں۔وہاں جا کے ان کو سکون ملتا ہے آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور دل اطمینان پا جاتا ہے۔یہ بھی ایک تجربہ ہے جو میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ میں سے بہتوں کو ہوا ہوگا کہ اطمینان یافتہ آدمی کے پاس پہنچ کر دل پہ گہر اسکون طاری ہو جاتا ہے۔اتارہ والے میں نفس اتارہ کی تاثیریں ہوتی ہیں۔“ جس کا دل ہر وقت اس کو بدیوں کی تحریک کر رہا ہو اس کے پاس بیٹھو گے تو تمہارے دل میں بھی بدیوں کی تحریکیں شروع ہو جائیں گی۔اور لو امہ والے میں تو امہ کی تاثیریں ہوتی ہیں۔“ جس شخص کے پاس بیٹھو اگر اس کا نفس بار بار اس کو اپنی کمزوریوں اور بدیوں پر ملامت کرتا ہے تو جو پاس بیٹھتا ہے وہ یہ محسوس کرے گا کہ اس کے دل میں بھی اپنی کمزوریوں اور بدیوں پر ملامت کا وو رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔اور جو شخص نفس مطمنہ والے کی صحبت میں بیٹھتا ہے اس پر بھی اطمینان اور سکینت کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں اور اندر ہی اندر اسے تسلی ملنےلگتی ہے۔“ الحکم جلد 8 نمبر 2 صفحہ:1 مؤرخہ 17 جنوری 1904ء)