خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 291

خطبات طاہر جلد 17 291 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء میں نظر ڈالتا ہوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت غیر معمولی طور پر رزق عطا فر مایا ہے۔اگر یہ سارے لوگ اپنے حصہ وصیت کو صحیح ادا کریں تو یہ ہو نہیں سکتا کہ جماعت احمد یہ جرمنی کو کچھ مالی مشکلات در پیش ہوں لیکن انہوں نے بہت ہی اُمیدوں کے ساتھ بہت اونچا پروگرام بنایا ہے اور آمدن اتنی دکھائی نہیں دے رہی تو اس حصہ کو خاص طور پر زیر غور لا ئیں۔آپ کی آج کی مجلس شوری میں مالی امور پر خصوصی بحث ہونی چاہئے اور اس کے متعلق مجھے تسلی بخش رپورٹ ملنی چاہئے کہ آپ نے جتنے پروگرام بنائے ہیں اپنی مالی استطاعت کے مطابق بنائے ہیں ورنہ ان پروگراموں کو کچھ کم کرنا پڑے گا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہی طریق تھا کہ وہ ہمیشہ کسی تجویز کو بھی اس وقت تک زیر غور نہیں لاتے تھے جب تک اس کے متعلق مالی ضروریات کا پہلے سے انتظام نہ کیا جا چکا ہو اور یہ ہستی نہ ہو کہ ان نئی تجاویز کے اوپر جتنا خرچ بھی آنا ہے وہ سارے کا سارا مہیا کرنے کے لئے مجلس شوریٰ نے الگ انتظام کر رکھا ہے، ایسی صورت میں تجاویز پیش ہوا کرتی تھیں۔اب میرے پاس اتنا وقت تو نہیں رہا کہ ان تجاویز میں سے بعض کو میں رڈ کر دیتا ، بعض کو نسبتا کم کرتا مگر اب مجلس شوریٰ اور امیر صاحب کا فرض ہے کہ وہ اس پہلو سے پہلے مالیات پر غور کریں پھر مالیات کے مطابق جتنی توفیق ہے اتنے پر پھیلائیں اور اسی نسبت کے ساتھ اپنے آئندہ سال کے پروگرام کو مرتب فرما ئیں۔جہاں تک سویڈن کا تعلق ہے دعائیہ پیغام تو ہے لیکن اس کے علاوہ یہ بھی میں گزارش کروں گا کہ جماعت سویڈن نے خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے پرانے دلڈ ر دور فرما دئے ہیں اور نئے ہلکے قدموں کے ساتھ جماعت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔میں اُمید رکھتا ہوں کہ ان کی مجلس شوری میں بھی یہی پاکیزہ ماحول جاری رہے گا اور جماعت سویڈن آئندہ پہلے سے زیادہ تیز قدموں کے ساتھ ترقی کرے گی۔اب میں آپ کے سامنے وہ مضمون رکھتا ہوں جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِين اور سچوں کے ساتھ شامل ہو جاؤ۔یہ آیت کریمہ میں نے اس لئے منتخب کی تھی کہ اس سے پہلے خطبہ میں میں نے جماعت کو نصیحت کی تھی کہ بدوں سے پر ہیز کرو اور جتنا دور