خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 290
خطبات طاہر جلد 17 290 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء ہر جگہ الگ الگ شوری نئی نئی روایات کے ساتھ منعقد ہو رہی ہو۔آج ہی مثلاً جرمنی سے یہ اطلاع ملی ہے کہ انہوں نے غالباً بہت لمبا ایجنڈا بنایا ہوا تھا اس لئے بجائے اس کے کہ سب کمیٹیاں بنائی جاتیں ان کا خیال تھا کہ سارا ہاؤس یعنی پورے کے پورے حاضرین بیک وقت سارے مشوروں پر غور کریں۔اب یہ ایک Innovation ہے، ایک بدعت ہے جس کا آغاز جرمنی جیسے اچھی کارکردگی والے ملک سے ہونے لگا تھا۔تو الحمد للہ کہ میں نے اس سے پہلے ان کی شوری کے ایجنڈا اور ان کے پروگرام کے متعلق معلومات حاصل کر لیں اور ان کو فوری ہدایت دی کہ ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔آپ کی مجلس شوری دنیا میں منعقد ہونے والی تمام مجالس شوری کے مطابق ہی ہوگی۔الحمد للہ کہ انہوں نے فوری طور پر اس بات کی درستی کر لی ہے۔ان کی شوریٰ میں جو ایجنڈا پیش ہے وہ بہت ہی غیر معمولی طور پر ایسے پروگراموں پر مشتمل ہے جو بہت زیادہ روپیہ بھی چاہتے ہیں کیونکہ جہاں تک میں نے غور کیا ہے وہ ایجنڈا ایسا ہے کہ جب تک غیر معمولی طور پر روپیہ خرچ نہ کیا جائے اس پر عمل درآمد ہو ہی نہیں سکتا اور جماعت جرمنی کا یہ حال ہے کہ پچھلے ایک دو سال سے ان کے چندوں میں کمی آرہی ہے یعنی جو باقاعدہ چندے ہیں ان میں کمی واقع ہو رہی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں ایسے تاجر اور دوسرے اچھا کام کرنے والے امیر لوگ ہیں جو اگر اپنے بجٹ کو صحیح طور پر ادا کریں، وصیت ہی کا حصہ اگر پورا ادا کیا جائے تو جماعت جرمنی کی حالت پہلے سے بہت بہتر ہو سکتی ہے۔(اس موقع پر لاؤڈ سپیکر میں آواز کی خرابی ظاہر ہونے پر حضور نے فرمایا: ”یہ آپ کا لاؤڈ سپیکر کچھ خراب ہے۔ذرا بھی میں اِدھر اُدھر منہ کروں تو پھر یہ آواز نہیں اٹھاتا اور یہی بیماری ہمیشہ سے لاؤڈ سپیکر کے نظام میں چلی آتی ہے۔بار بار میں سمجھا تا ہوں، بار بار اسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یا تو سیدھا اکڑ کر بیٹھ جاؤں اور دائیں بائیں بالکل نہ دیکھوں ورنہ آواز میں فرق پڑ جائے گا۔اب مجھے مجبوراً یہی کرنا پڑے گا کہ سیدھا مخاطب ہو کر آپ سے بات کروں اس لئے جو احباب دائیں یا بائیں توقع رکھتے ہیں کہ میں ان کی طرف بھی دیکھوں ان سے میری معذرت ہے اس میں میرا قصور نہیں یہ آپ کے انتظام کا قصور ہے۔‘“ پھر اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہوئے حضور نے فرمایا: بہر حال جماعت جرمنی کے متعلق بات ہو رہی تھی کہ میں تفصیل سے تو نہیں کہہ سکتا کہ کس حد تک ان کے اندر مالی استطاعت موجود ہے مگر میرا یہ تاثر ضرور ہے کہ جن دوستوں پر