خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 287
خطبات طاہر جلد 17 287 خطبہ جمعہ 24اپریل 1998ء وہ اللہ کی ذات ہے جو رائی کے بھی پہاڑ بنا دیا کرتا ہے۔چنانچہ ایسے کثرت سے واقعات ملتے ہیں کہ ایک انسان نے عمر بھر بدیوں میں ضائع کر دی اور ایک دن ایک چھوٹی سی نیکی کرنے کی ایسی توفیق ملی جو صرف اللہ کے لئے تھی اور اس کے بعد پھر نیکیوں کے پہاڑ اس کے حق میں جمع کر دئے گئے۔پس واقعہ رائی کا پہاڑ بنتا ہے لیکن ان معنوں میں بنتا ہے۔بندوں کے جھوٹ اور مبالغہ آمیزی سے پہاڑ بنے بھی تو بے معنی اور بے حقیقت ہوا کرتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہر سال ہزارہا طالب علم سالہا سال کی محنتوں اور مشقتوں پر پانی پھرتا ہوا دیکھ کر روتے رہ جاتے ہیں۔( یہ بالکل درست ہے۔ہزارہا طالب علم ہیں اب تو لاکھوں لاکھ ہوں گے ) اور خود کشیاں کر لیتے ہیں۔“ میرے علم میں بھی ہیں ایسے لوگ ، ایسے طالب علم جنہوں نے محض اس لئے خودکشی کی کہ کامیاب نہیں ہو سکے۔اور جاپان میں تو یہ عام سلسلہ ہے ناکامی ہوئی اور ساتھ ہی خود کشی ہو گئی۔مگر اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ایسا ہے کہ وہ ذرا سے عمل کو بھی ضائع نہیں کرتا۔پھر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ انسان دنیا میں ظنی اور وہمی باتوں کی طرف تو اس قدر گرویدہ ہو کر محنت کرتا ہے کہ آرام اپنے اوپر گویا حرام کر لیتا ہے اور صرف خشک اُمید پر کہ شاید کامیاب ہو جاویں ہزار ہا رنج اور دکھ اٹھاتا ہے۔تاجر نفع کی امید پر لاکھوں روپے لگا دیتا ہے مگر یقین اسے بھی نہیں ہوتا کہ ضرور نفع ہی ہوگا۔مگر خدا تعالیٰ کی طرف جانے والے کی جس کے وعدے یقینی اور حتمی ہیں کہ جس کی طرف قدم اٹھانے والے کی ذرا بھی محنت رائیگاں نہیں جاتی۔میں اس قدر دوڑ دھوپ اور سرگرمی نہیں پاتا ہوں۔یہ لوگ کیوں نہیں سمجھتے۔؟ وہ کیوں نہیں ڈرتے کہ آخر ایک دن مرنا ہے۔“ یہ جوموت کا تصور ہے اس کا یقینی ہونا یہ سب سے زیادہ آپ کو برائیوں سے دور کرنے اور نیکیوں کی طرف قدم بڑھانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔آپ نے سینکڑوں مرتے ہوئے دیکھے ہوں گے یا اگر کسی کا دائرہ محدود ہے پندرہ میں تیں ایسے لوگ تو اس نے ضرور دیکھے ہوں گے کہ ان کے اندر گھروں میں پھرا کرتے تھے ، اچھی اچھی باتیں کیا کرتے تھے ، ان کے بزرگ بھی تھے یا ان کے گھروں میں آنے جانے والے لوگ تھے اب وہ کہاں گئے ہیں۔جب سے میں یہاں آیا ہوں جماعت