خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 286

خطبات طاہر جلد 17 286 خطبہ جمعہ 24اپریل 1998ء آپ جانتے ہیں یہ ایک ایسی فطری حقیقت ہے جس کو تبدیل کیا ہی نہیں جا سکتا کوئی شخص بھی آپ کی خاطر کسی سے مخالفت لیتا ہے آپ لازماً اس کو گلے لگا ئیں گے اور پیار کریں گے تو اللہ کے متعلق سوچیں کہ اللہ جو سب سے زیادہ ان معنوں میں شکر ادا کرنے والا ہے اس نے اپنے شکر کے بھی رنگ رکھے ہیں۔کوئی اللہ تعالیٰ کو شکر میں بھی شکست نہیں دے سکتا۔جب وہ شکر یہ ادا کرتا ہے تو کمال کر دیتا ہے۔فرمایا: وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا الله تعالیٰ کی راہوں کی تلاش میں جو جو یا ہوا وہ آخر منزل مقصود پر پہنچا۔دنیوی امتحانوں کے لئے تیاریاں کرنے والے (اور ) راتوں کو دن بنادینے والے طالب علموں کی محنت اور حالت کو ہم دیکھ کر رحم کھا سکتے ہیں۔“ کئی لوگ ہیں بے چارے ساری ساری رات جاگتے ہیں اور کچھ بھی نہیں بنتا۔ہر دفعہ امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں۔ایسے لوگ کثرت سے میرے پاس آتے ہیں یا خط لکھتے ہیں ان بے چاروں کو سمجھ نہیں آتی کہ ہوا کیا ہے، کریں کیا۔امتحان میں جاتے ہی دماغ ماؤف ہو جاتا ہے، اچھا بھلا پڑھا لکھا بھی بھول جاتا ہے۔ان کی حالت دیکھ کر ہم ) رحم کھا سکتے ہیں، تو کیا اللہ تعالیٰ جس کا رحم اور فضل بے حد اور بے انت ہے اپنی طرف آنے والے کو ضائع کر دے گا۔؟“ ہم تو ایک امتحان کے طالب علم پر بھی رحم کرتے ہیں جس کی محنت ضائع جارہی ہے مگر جو خدا کی طرف زور مار رہا ہو اس کا یہ امتحان ہے، اس کا یہ نصاب ہے۔تو ہم لوگ تو کسی غیر طالب علم پر رحم کریں اور وہ اس پر رحم نہ کرے جو خدا تعالیٰ کی طرف جدو جہد کر رہا ہو ، کوشش کر رہا ہو۔ہر گز نہیں ، ہر گز نہیں۔اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔إِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - (التوبة: 120) (اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتا۔) اور پھر فرماتا ہے : فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَةُ - (الزلزال : 8) کہ جو شخص ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرے اس کو اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے یعنی اس کو ان معنوں میں دیکھتا ہے کہ لازماً اس کو بے اجر نہیں رہنے دیتا۔ایک ذرہ نیکی کا بھی بعض دفعہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔محاورہ میں تو ہے کہ رائی کا پہاڑ بنادیا انسان یہی کام کیا کرتا ہے مبالغہ آمیزی میں۔ایک ہی ذات ہے