خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 275 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 275

خطبات طاہر جلد 17 275 خطبہ جمعہ 24اپریل 1998ء اپنے ماں باپ کے لئے تو یہ غیرت اور محمد رسول اللہ صل للہ ایک یتیم اور آپ صلی ایلام کے دین کے لئے وہ غیرت؟ یہ منافقت ہے اس لئے کسی شخص سے یہ بات ڈھکی چھپی رہ نہیں سکتی۔ضرور وہ اپنے نفس کو پہچان سکتا ہے اگر اسی صورت کو اپنے ماں باپ کے معاملہ پر چسپاں کر کے دیکھے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ تو بہت دور کی بات ہے مومنوں کو تو چاہئے کہ لغو مذاق کی مجلس کو بھی پسند نہ کریں خواہ وہ خدا اور رسول کے خلاف نہ بھی ہو۔اللہ کے سادہ پاک بندوں کے متعلق ہو ان کے اندر کوئی کمزوریاں ہوں اور کوئی شخص اپنی بڑائی کی خاطر ان کی کمزوریاں دکھا دکھا کر اس پر لطیفہ گھڑ رہا ہو۔ایسے لوگ ہوتے ہیں۔بظاہر دین کے خلاف نہیں کہتے مگر میرے دل میں تو ان کے خلاف ایسی ہی منافرت پیدا ہوتی ہے کہ سوائے اس کے کہ مجبوراً اُن کو سلام علیک کہنا پڑے وہ ہماری مجلس میں آجاتے ہیں تو اُن کو نکالا نہیں جا سکتا مگر میں کبھی ان لوگوں کی مجلس میں جا کے نہ بیٹھوں۔پس جاکے بیٹھنے والا مقصد جہاں تک ہے وہ تو ان کی مجلس کو بھی میں پسند نہیں کرتا۔کئی دفعہ میں نے اپنے بچوں کو نصیحت کی ہے کہ ایسے آنے والے اگر تمہارے گھر جا کے ایسا اڈہ لگائیں تو تمہاری غیرت کا تقاضا ہے یا شرافت کا ،حیاء کا تقاضا ہے کہ کہہ دو کہ ہمارے گھر ایسی باتیں نہ کریں۔اگر چہ ہم آپ کے ہاں نہیں گئے اس حد تک تو ہم نے اپنی ذمہ داری ادا کی مگر آپ یہاں ایسی باتیں نہ کریں ہمیں پسند نہیں ہیں۔پھر ملنا جلنا بے شک رکھیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن سے ملنا جلنا ممکن ہے مگر بعض شرائط کے ساتھ۔حَتَّى يَخُوضُوا في حَدِیثِ غَيْرِہ میں یہ مضمون پھر ہو گا کہ سوائے اس کے کہ اور باتیں شروع کر دیں۔اب میں اس تعلق میں آنحضرت مصلی ما یہ تم کے بعض ارشادات آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو خود اپنا مضمون کھول رہے ہیں، بالکل ظاہر و باہر ہیں۔مشکوۃ المصابیح میں کتاب الآداب میں ایک حدیث درج ہے جوابی موسی سے ہے۔ابو موسیٰ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یا یہی تم نے فرمایا: ” نیک اور برے ہم نشین کی مثال کستوری رکھنے والے اور دھونکنی چلانے والے کی ہے۔کستوری رکھنے والا یا تو تجھے کچھ دے گا یا تو اس سے کچھ خریدے گا۔“ (مشكاة المصابیح، کتاب الآداب،باب الحب فی اللہ ومن اللہ ،حدیث نمبر :5010) اب یا تو تجھے کچھ دے گا یا اس سے تو خریدے گا۔یہ ایسی مزہ دار بات ہے کہ اُس زمانہ کی تجارت میں بھی یہ اطلاق پاتی تھی اور آج کل بھی پاتی ہے۔بہت سی خوشبوؤں کی دکانیں ہیں جہاں ہم جاتے ہیں