خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 274

خطبات طاہر جلد 17 274 خطبہ جمعہ 24 اپریل 1998ء فَلَا تَقْعُدُ بَعدَ الذِكرى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ۔یہ ذکری جو آچکی ہے، یہ نصیحت اس کے بعد پھر کبھی آئندہ ان لوگوں کے پاس نہیں جانا۔اگر ایک دفعہ بھی حادثہ ، لاعلمی میں تم چلے گئے اور وہاں یہ بیہودہ باتیں ہو رہی تھیں، تو اٹھ کھڑے ہو اور یہ پہلا واقعہ شیطان کے بھلانے کے نتیجہ میں ہوا ہے۔تمہارے علم کا نہ ہونا گو یا شیطان کی طرف منسوب ہوا ہے لیکن جب یہ کھلی کھلی نصیحت آجائے پھر کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ہرگز ان کے قریب نہیں آنا خواہ وہ کوئی دوسری باتیں ہی کر رہے ہوں۔وَمَا عَلَی الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّنْ شَيْءٍ وَلَكِنْ ذِكْرَى لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ، ان کا حساب اللہ پر ہے۔متقیوں کو اُن پر چھوڑ دینا چاہئے اور اپنے حساب کی فکر کرنی چاہئے۔پھر فرمایا: وَلكِنْ ذِكْرَى لَعَلَّهُمُ يَتَّقُونَ یہ نصیحت ہے، بہت بڑی نصیحت ہے تا کہ لوگ تقویٰ اختیار کریں ورنہ آہستہ آہستہ اچھے لوگ بھی جب بے غیرتی کا نمونہ دکھا ئیں تو رفتہ رفتہ گندے لوگ بن جایا کرتے ہیں کبھی بھی ایک مقام پر پھر نہیں ٹھہرتے۔ایک دو دفعہ باتیں سنیں، مذاق سنے، برداشت کر لیا کبھی ہنسی بھی آگئی اور پھر چسکا پڑ گیا۔یہ ہوہی نہیں سکتا کہ یہ لوگ پھر ان میں شامل نہ ہو جائیں۔اب پہلا مسئلہ تو یہی ہے غیرت اور حمیت کا فقدان ہے۔تو جو شخص گوارا کرتا ہے ایسے لوگوں کو کہ جو بے حیائی کی باتوں کا اڈہ بنائے ہوئے ہیں اُن میں جانے میں اس کی کوئی حمیت، کوئی غیرت مانع نہیں ہوتی تو لازماً فطرتاً یہی بات ظاہر ہوتی ہے کہ اُن کے دل میں کوئی چور ہے ، کوئی بے حیائی کا مرکز ہے، کوئی بے غیرتی کا مرکز ہے ورنہ ناممکن ہے کہ وہاں جا کے چسکے لیں جہاں پھبتیاں اُڑائی جارہی ہوں خدا اور خدا کے پیاروں پر، وہاں جا کے بیٹھنے کا سوال کیسے اٹھ سکتا ہے سوائے اس کے کہ اپنے نفس میں ، اپنے دل میں بے حیائی اور بے غیرتی کا کوئی مرکز موجود ہے۔اسے تم بظاہر چھپارہے ہو لیکن جاتے ہو تو اسی مقصد کے لئے جاتے ہو کہ ایسی باتیں سنو لیکن ایسے لوگوں کے لئے ایک کسوٹی ہے وہ اسے استعمال کر لیں تو ان کو بے غیرتی اور بے حیائی کا صاف علم ہو جائے گا۔اگر کسی شخص کے ماں باپ کے خلاف کوئی بے حیائی اور بدکلامی کی باتیں کرتا ہے اور منہ پھٹ ہے، بکواس کرتا ہے اس کی ماں یا اس کے باپ پر، کیا وہ سوچ سکتا ہے کہ وہ بار بار وہاں جائے اور دیکھے کہ اب کوئی اور باتیں تو نہیں کر رہا۔میرے ماں باپ کے خلاف تو بکواس کرتا ہی ہے مگر شاید اب نہ کر رہا ہو۔انسانی فطرت کے خلاف ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا۔تو یہ سارے منافقین اس حوالے سے اپنے آپ کو پہچان سکتے ہیں۔