خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 270
خطبات طاہر جلد 17 270 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء کی ضرور حالت ہے ان میں حسد کا مادہ ہے اور بہت ہی خطرناک چیز ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک اور اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کوڑھ ہے۔کوڑھی جس طرح چاہتا ہے کہ سب کو ہی کوڑھ لگ جائے۔مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ روحانی حالتوں میں اگر کوئی شخص کسی سے کسی کی نیکی پر خوش ہونے کی بجائے اپنے اندر تکلیف محسوس کرتا ہے تو یہ چھپے ہوئے کوڑھ کی علامت ہے۔فرمایا میں ظاہر کر رہا ہوں تم سمجھو یانہ سمجھو۔اگر تم دیکھنا چاہتے ہو کہ تم روحانی کوڑھی ہو کہ نہیں تو جب بھی کسی احمدی کو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کوئی اچھی چیز نصیب ہو تو اپنے دل کو ٹولا کرو، دیکھا کر واس پر کیا اثر ظاہر ہوا ہے۔اگر غصہ ہے، اگر نفرت ہے یا ملال ہے یا کچھ بھی نہیں ہے تب بھی تمہاری بلا سے اس کو جو کچھ پل جائے یہ سب کوڑھ کے آغاز کی علامتیں ہیں۔پس کون پسند کرے گا کہ وہ کوڑھی کی طرح ہو جائے۔کوڑھی کی آخری صورت یہ ہوتی ہے وہ کہتا ہے مجھے نہ چھونا، مجھے نہ چھونا۔تو خدا کے مومن بندوں کے دل سے پھر یہ آواز اٹھتی ہے کہ اس ظالم ، اس بد بخت کو نہ چھوؤ ، اس کو اپنے حال پر رہنے دو۔پس یہ میری دعا ہے اور اسی پر میں آج کے اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے روحانی کوڑھ سے بچائے اور حسد کی بجائے رشک پیدا فرمائے۔رشک میں نیکیوں میں آگے بڑھنے کی دوڑ ہوا کرتی ہے۔اس دوڑ کی ہم سب دنیا کو دعوت دیتے ہیں مگر یہ دوڑ اللہ کے فضلوں کے سوا کسی کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کر سکتی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔