خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 269 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 269

خطبات طاہر جلد 17 269 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء پس مجھے ہرگز جماعت کے متعلق یہ فکر نہیں اور وہ ہو بھی نہیں سکتی کہ آپ مسیح موعود کے منکروں سے حسد کریں یعنی حد سے زیادہ پاگل بھی اگر کوئی جماعت میں ہو، اللہ کے فضل سے ایسے پاگل اتنے نہیں ہیں ، مگر کوئی حد سے زیادہ پاگل بھی ہو تو وہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منکرین سے حسد نہیں کرسکتا۔شکر کرے گا خدا کا کہ میں ان بدبختوں میں نہیں ہوں مگر آپس میں حسد کرتے ہیں اور جو آپس میں حسد کرتے ہیں ان کے لئے خطرہ ہے کہ دین سے گزرجائیں اور ان لوگوں میں شامل ہو جائیں جن پر باقی جماعت کبھی حسد نہیں کرے گی۔یہ رفتہ رفتہ سرکنے کا جو رستہ ہے اس کا مجھے خطرہ ہے اور اسی کے لئے میں آپ کو متنبہ کر رہا ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی ہی تم نے فرمایا ہے حسد نیکیوں کو بھسم کر دیتا ہے۔پس جولوگ کسی احمدی کے مال پر حسد کریں، اس کی بعض خوبیوں پر حسد کریں ، اس کے بعض عہدوں پر حسد کریں یہ دیکھا گیا ہے کہ لازماً اس حسد کے نتیجے میں ان کی نیکی مٹی جاتی ہے اور وہ جلن میں آکر جھوٹ بولنا شروع کر دیتے ہیں فرضی باتیں اس کی طرف منسوب کرنے لگ جاتے ہیں۔یہاں تک کہ اس کی نیکیوں کو بھی ٹیڑھی نظر سے دیکھ کر نئے غلط نتیجہ نکالتے ہیں پس اس سے کلیہ تو بہ کر لیں۔کیا تکلیف ہے اگر کسی کوکوئی بات اچھی مل جائے تو بشیر اللہ۔بھائی چارے کا تو یہ مطلب نہیں ہے کہ حسد کرو۔بھائی چارے کا یہ مطلب ہے کہ کسی کے اندر اچھی چیز دیکھو تو خوش ہو جاؤ۔کسی کو کچھ مل جائے تو سُبحان الله الحمد للہ کہو اس طرح اخوت ایک مٹھی کی طرح آپ کو اکٹھا کر لے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ایسا ہی ایک حسد ہے کہ انسان کسی کی حالت یا مال و دولت کو دیکھ کر کڑھتا اور جلتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے پاس نہ رہے۔اس سے بجز اس کے کہ وہ اپنی اخلاقی قوتوں کا خون کرتا ہے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔“ ( الحکم جلد 8 نمبر 11 صفحہ: 5 مؤرخہ 31 مارچ 1904ء) پس اسی پر میں آج کے خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم جماعت مومنین کا وہ نمونہ دکھا ئیں جو ساری دنیا میں اللہ کی وحدت کا نشان ہو۔توحید باری تعالیٰ کے علم بردار اگر کوئی ہوں تو ہم ہوں اور ساری دنیا میں باہمی اخوت کے نتیجہ میں دشمنوں کو بھائی بھائی بنارہے ہوں، بھائیوں کو دشمن نہ بنارہے ہوں۔پس یہ جو حالت ہے یہ ساری دنیا میں جماعت احمدیہ میں بعض لوگوں