خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 263
خطبات طاہر جلد 17 263 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء آج کل ساری دنیا میں جو جماعت کے خلاف مہم چلی ہوئی ہے پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک بھی ہیں ان میں بھی یہی شور پڑا ہوا ہے خالصہ حسد کی وجہ سے ہے اور اُن کے حسد کی وجہ سے ہم نے بڑھنا بند نہیں کرنا۔یہ تو مقدر کی بات ہے۔ناممکن ہے کہ کوئی حسد کرے اور ہم اس کی خاطر رک جائیں کہ بیچارا کیوں آگ میں جلتا ہے، آگ میں جلتا ہے مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ ، یہ لوگ اپنے اندر کی آگ میں خود جل رہے ہیں۔ہم ان کو کیسے روک سکتے ہیں لیکن ہم نے بڑھنا بند نہیں کرنا، پھیلنا بند نہیں کرنا۔ہماری ترقیات جتنا چاہیں ان کو دُکھ دیں یہ ان کے مقدر میں ہے ہمارا تو کوئی قصور ہی نہیں، ترقی کرنا کون سا قصور ہے یہ بھی ترقی کر دیکھیں۔اگر ان سے ترقی ہوسکتی ہے تو کر دیکھیں۔یہ مہ ہیں۔یہ مقابلہ ہے ہمارے ساتھ۔یہ بھی آگے بڑھیں اور ہم بھی آگے بڑھیں اور یہ ہمیں پیچھے چھوڑ جائیں لیکن یہ ہو نہیں سکتا۔وَاللهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ۔اس مضمون نے ان کی ناکامی پر مہر لگا دی ہے تم دوڑ کر دیکھو کوشش کر دیکھو تمہیں کبھی ترقی نصیب نہیں ہو سکتی کیونکہ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ کہ اللہ اپنی رحمت کے لئے جسے چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے اور جس کو خاص نہ کرے اس کے نصیبے میں کچھ بھی نہیں لکھا جاتا سوائے نامرادی کے۔پس یہ چیلنج ہے آؤ اور مقابلہ کر کے دیکھ لو جتنی چاہے دوڑیں لگاؤ تم ہمیشہ ناکام و نامرادر ہو گے۔جماعت احمدیہ کی ترقی کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خاص کر لیا ہے اور جس کو خدا رحمت کے لئے خاص کر لے کوئی دنیا کی طاقت اس کی راہ میں روڑے نہیں اٹکا سکتی۔وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ اور جو خاص کیا ہے وہ عام رحمت کے لئے نہیں، فضل عظیم کے لئے خاص کیا ہے۔ذُو الْفَضْلِ الْعَظیمِ کا مضمون سورۃ جمعہ کی ان آیات کی یاد دلاتا ہے جس میں آنحضرت ملی پی ایم کی بعثت ثانیہ کے ساتھ یہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ جس کو چاہے وہ چنے گا۔وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔تو یہ تو چودہ سو سال پہلے قرآن نے تقدیر ظاہر کر دی تھی آج کی بنائی ہوئی باتیں تو نہیں ہیں۔قرآن نے فیصلہ کر دیا تھا کہ جب خدا چاہے گا جس کو چاہے گا چنے گا اور کوئی اس میں روک نہیں بن سکتا ، خدا کی اس جاری تقدیر کی راہ میں روک نہیں بن سکتا۔اور دنیا دیکھے گی وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظيمِ اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔یہ فضل ہیں جو آپ پر نازل ہونے والے ہیں، یہ فضل ہیں جو آپ پر نازل ہو رہے ہیں۔ان فضلوں کو روکنے کے لئے حسد کی آگ بھڑک رہی ہے اس لئے لوگوں کے حسد کی آگ کی وجہ سے آپ کے قدم کیسے رک سکتے ہیں۔یہ ناممکن ہے۔