خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 262
خطبات طاہر جلد 17 262 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء اپنی ہمت اور توفیق کے موافق آگے بڑھتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ ان میں ایک صدق اور اخلاص پایا جاتا ہے۔میری طرف سے کسی امر کا اشارہ ہوتا ہے اور وہ تعمیل 66 کے لئے تیار “ اس بات نے آگ لگائی ہوئی ہے۔کئی طرف سے کوششیں ہو رہی ہیں جماعت کو کم کرنے ، گھٹانے کی۔یہ آگ لگی ہوئی ہے کہ جماعت اتنی وفادار، اتنی عاشق کہ جو کچھ ہم کر دیکھیں اس کو خاک برابر نہیں سمجھتے ، آگ میں ڈال دیتے ہیں جو کچھ ہم بکواس کرتے ہیں یا کوشش کرتے ہیں مخالفت کی اور یہ جماعت اپنے اخلاص میں ترقی کرتی چلی جارہی ہے وفا کا دامن نہیں چھوڑتی۔اس لئے نہیں چھوڑتی کہ اللہ کا حکم ہے ، اس لئے نہیں چھوڑتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کے ساتھ خدا کا کلام ہے جو جاری ہوتا ہے اس کو بدل کیسے سکتے ہیں جو مرضی کر لیں کبھی تبدیل نہیں کر سکتے۔اب آئندہ آنے والے واقعات کو اس طرح منسلک فرما دیا ہے۔حقیقت میں کوئی قوم اور جماعت تیار نہیں ہو سکتی۔جب تک کہ اُس میں اپنے امام کی اطاعت اور اتباع کے لئے اس قسم کا جوش اور اخلاص اور وفا کا مادہ نہ ہو۔“ الحکم جلد 9 نمبر 9 صفحہ: 5 مؤرخہ 17 مارچ 1905ء) پس یہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی آج آپ کے ذریعہ پوری ہو رہی ہے۔آپ فرماتے ہیں جب بھی امام کے ساتھ یہ تعلق ہو گا لازماً جماعت ترقی کرے گی اور پھیلے گی اور کوئی دنیا کی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔یہ ہے وہ مضمون جس نے حسد کی راہیں کھولی ہیں جس کے نتیجہ میں بہت سخت ایک بلا حسد کی پڑ گئی ہے لوگوں پر اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ان کو ختم کر دو۔چنانچہ قرآن کریم سورۃ البقرۃ میں اسی مضمون کو یوں بیان فرماتا ہے: مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَب وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزِّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۖ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ـ (البقرة: 106) اہل کتاب میں سے اور مشرکوں میں سے جن لوگوں نے ہمارے رسولوں کا انکار کیا وہ پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے کسی قسم کی خیر و برکت اتاری جائے اور بھول جاتے ہیں کہ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے خاص کر لیتا ہے اور اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔