خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 254 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 254

خطبات طاہر جلد 17 254 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء جوان کے اندر سے ہی پھوٹتا ہے۔مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ بعد اس کے کہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہوتا ہے، پوری طرح کھل چکا ہوتا ہے۔فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا پس عفو سے کام لو اور درگزر سے کام لو۔حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِآمرہ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے سمیت آجائے یعنی اپنا فیصلہ صادر فرمادے۔إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔یہاں وَد كَثِيرٌ مِّنْ اَهْلِ الکتب کی جو تمنا کا ذکر فرمایا گیا ہے یہ آج کل بھی جماعت احمدیہ کے حالات پر اسی طرح چسپاں ہوتی ہے۔اہل کتاب کے نمائندہ آج کل کے مسلمان ہیں جو اپنے آپ کو کتاب یعنی قرآن کریم کی طرف منسوب کرتے ہیں اور بڑے فخر سے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم کتاب والے ہیں اور تم کتاب سے باہر ہو۔لَو يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا وہ چاہتے ہیں کہ تم ایمان لانے کے بعد کفار ہو جاؤ ، دوبارہ انکار کر دو۔اس بات میں یہ جو ایک لفظ کفارا کا استعمال فرمایا گیا اس میں ان کی جھوٹی منطق کا پول کھول دیا گیا ہے۔ذرا بھی عقل کے ساتھ اس آیت کا مطالعہ کریں تو صاف پتا چل جائے گا کہ ان کی یہ خواہش نہیں ہے کہ تم وہ ایمان لے آؤ جو قرآن پر حقیقی ایمان ہے، ان کی خواہش ہے تم کچھ بھی ہو جاؤ مگر کفار ہو جاؤ۔ہندو بن جاؤ سکھ ہو جاؤ، عیسائی ہو، دہر یہ ہوان کو کوڑی کا بھی فرق نہیں پڑتا۔اگر نہ ہو تو احمدی نہ ہو۔پس اس سے پتا چلا کہ انہیں تو دین سے محبت ہی کوئی نہیں۔نہ کتاب سے محبت ہے ، نہ خدا سے محبت ہے۔ان کا جو جذ بہ ہے ، جو تمنا ہے وہ کفر سے پھوٹ رہی ہے اور کفر ہی ان کا حصہ ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے جو یہ فرما یا مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كفارا، اس نظارا کے لفظ میں ان کی حقیقت حال کو سمجھنے کے لئے ساری چابی رکھ دی گئی ہے۔حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُھم میں جو ان کی تمنا ہے حسد کی وجہ سے پھوٹ رہی ہے۔تم بڑھتے ہو تو آگ لگتی ہے۔اگر بڑھنا بند کر دو تو ان کی آگ بھی بجھ جائے گی۔کس بات پر حسد ہے اس بات پر کہ وقت کے امام کو تم نے تسلیم کر لیا ہے۔جو خدا نے بھیجا تھا اس کو مان لیا ہے اور وہ بڑھ رہا ہے وہ پھیل رہا ہے، ہر کوشش کر بیٹھے ہیں کہ کسی طرح اس کے ارد گرد پھیلنے اور بڑھنے کو روک سکیں مگر اس کی نشو ونما کو روک نہیں سکے۔جب بھی کوئی ایسا شریک ہو یعنی جسے لوگوں نے اپنا شریک بنا رکھا ہو اور وہ بڑھے اور نشو و نما پائے اس کے نتیجہ میں لازماً حسد پیدا ہوتا ہے اور حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ ان کی اپنی جانوں میں سے پیدا ہو رہا ہے ورنہ جو کچھ پھیل رہا ہے وہ تو نیکی پھیل رہی ہے خدا کا دین پھیل رہا ہے۔