خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 229

خطبات طاہر جلد 17 229 خطبہ جمعہ 3اپریل 1998ء ایک تر ڈر محسوس کیا وہیں سے اس کے سفر کا رخ بدلنا شروع ہو جائے گا۔فرماتے ہیں ' عظمت انہیں دکھلا دوں گا۔اس کی نشانی کیا ہے کہ اللہ نے عظمت عطا فرمائی ہے۔اب غور کر کے دیکھیں آپ کو اس کا جواب سمجھ نہیں آئے گا۔ایک تو وہ نشانی جو میں نے دی ہے باہر سے لوگ دیکھتے ہیں اور قطعی علامت کیا ہے خدا کی عطا کردہ عظمت کی۔6 ”یہاں تک کہ سب عظمتیں ان کی نگاہ میں بیچ ہو جا ئیں گی۔“ سبحان اللہ ! کتنا عظیم کلام ہے۔ان بد بخت اندھوں کے اوپر انسان رحم کرے یا ان کی حالت پر روئے۔اسی ایک فقرہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل کی حالت کو بے نقاب کر دیا ہے۔یہاں تک کہ سب عظمتیں ان کی نگاہ میں بیچ ہو جائیں گی۔یہ اتنا بڑا امتیاز ہے خدا کے بندوں اور غیروں کا کہ وہ عظمتوں کے پیچھے دوڑتے ہیں حرص اور لالچ کے ساتھ اور جتنی عظمتیں حاصل کرتے ہیں اور زیادہ عظمتوں کی طلب پیدا ہو جاتی ہے۔یہ نار جہنم ہے۔هَلْ مِنْ مَزِيدٍ (ق: 31) کی آواز ان کے دلوں سے اٹھتی ہے لیکن جو خدا سے عظمت پاتے ہیں ان کے دل میں عظمتیں کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتیں عظمتیں دینے والا حیثیت رکھتا ہے اور عظمتیں دینے والے سے چمٹ جانے کو دل چاہتا ہے اور ایک ہی عظیم رہ جاتا ہے جو اللہ ہے اور باقی کوئی عظیم نہیں رہتا۔یہ ایک ایسی نشانی ہے جو سچائی اور مکروفریب کی عظمتوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق کر دیتی ہے، کسی پہلو سے ایک دوسرے کے برابر نہیں ہوسکتیں۔66 یہی باتیں ہیں جو میں نے براہ راست خدا کے مکالمات سے بھی سنیں۔“ اب دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان عظیم الشان معارف کو اپنی طرف منسوب نہیں کر رہے۔فرمارہے ہیں یہی باتیں ہیں جو میں نے اللہ تعالیٰ سے سنی ہیں۔اس میں بھی ایک عجز ہے۔بظاہر بڑائی ہے کہ میں اللہ سے سنتا ہوں مگر حقیقت میں عجز ہے کہ یہ باتیں سن کر اچانک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عرفان کی عظمت دل میں پیدا ہوتی ہے اس کو یک قلم ایک طرف ہٹا دیا ہے۔فرمایا: یہی باتیں ہیں جو میں نے براہ راست خدا کے مکالمات سے بھی سنیں۔پس میری روح بول اٹھی کہ خدا تک پہنچنے کی یہی راہ ہے اور گناہ پر غالب آنے کا یہی طریق ہے۔حقیقت تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم حقیقت پر قدم ماریں۔