خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 228
خطبات طاہر جلد 17 228 خطبہ جمعہ 3اپریل 1998ء اس کے اندر صفت ہے کہ وہ روشنی کو منعکس کرے۔جس رنگ میں منعکس کرنے کی صفت ہے وہ رنگ دکھائی دیتا ہے اس کے اندر ایک صفت ہے کہ اپنی بوکو باہر نکالے۔اس کے اندر Curves ہیں خاص قسم کے، اس کی پتی کے کھلنے کے انداز ہیں۔یہ ساری صفات ہیں ان صفات کو نکال دیں تو پھول کہاں رہے گا، کچھ بھی نہیں رہے گا۔پس اس طرح خدا کو نہ دیکھنے والے دل کے اندھے ہیں یعنی صفات الہی کا جن کو نور میسر نہ ہو ان کو اللہ نظر آ ہی نہیں سکتا۔پس اللہ ا گر رفتہ رفتہ بھی اپنا نورا تارے تو دیکھنے والا رفتہ رفتہ اس کو دیکھتا چلا جاتا ہے۔کبھی ایک پہلو سے کبھی دوسرے پہلو سے۔فرمایا : ” خدا کو دیکھیں گے اور میں اپنی عظمت انہیں دکھلا دوں گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عظیم سے عظیم تر ہونا شروع ہو جائیں گے۔خدا کے بندے اور وہ جو شیطان کے بندے ہیں، جیسا کہ پہلے ذکر گزر چکا ہے، ان کے اندر کوئی مشابہت نہیں۔ان سے ایک جیسا سلوک نہیں ہوسکتا۔پس اللہ کو دیکھنے والے پھر دُنیا کو بھی دکھائی دیں گے اور اپنی عظمت سے پہچانے جائیں گے۔ان کے کردار میں ، ان کی گفتگو میں ، ان کی چال میں، ان کے پیغامات میں، ان کے بنی نوع انسان سے سلوک میں ایک عظمت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اس عظمت سے پہچانے جاتے ہیں کیونکہ خدا کی عظمت ان کے اندر جلوہ گر ہوتی ہے۔جہاں بھی ان کے اندر کمزوری دکھائی دے گی اور ہزار ہا ایسے سالکین ہیں جن کے سفر ابھی بہت سے باقی ہیں۔میں خود بھی اپنے آپ کو اچھی طرح جانتا ہوں۔بے انتہا قدم آگے بڑھنے والے باقی ہیں اور جب بھی کوئی کمزوری صادر ہوتی ہے تو میں پہچان لیتا ہوں کہ اس جگہ کوئی نور کی کمی واقع ہوئی ہے یا میں نے کوئی پردہ حائل کر دیا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ وہ پردہ اٹھا دیتا ہے اور میں دیکھنے لگ جاتا ہوں اور ایک اور نورا ترتا ہے۔پس اپنے نفس کی سچی شناخت سے نور اترا کرتا ہے یہ ایک ایسار از ہے جس کو اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔کیونکہ یہ راز ہے بھی نہیں ، کھلی ہوئی حقیقت ہے اور راز بھی ہے کیونکہ دیکھنے کی آنکھ نہ ہو تو اس کھلی حقیقت کو وہ دیکھ ہی نہیں سکتے۔ہر احمدی کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے سچائی کے نور سے اپنے نفس کو دیکھے اور جب دیکھے گا تو ایک روشنی پیدا ہوگی اور اللہ تعالیٰ وہاں وہ نورا تارے گا جس کی روشنی سے اس کی بدیاں اردگرد سے ظاہر ہونی شروع ہو جائیں گی اور بھا گئی شروع ہو جائیں گی۔تو لا متناہی سلسلہ ہے اس اقرار میں کہ ہمارے اندرا بھی بدیاں موجود ہیں ایک ذرہ بھی انسان کو باک نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جہاں اس نے اس اقرار میں ایک باک محسوس کیا ،