خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 213 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 213

خطبات طاہر جلد 17 213 خطبہ جمعہ 27 مارچ 1998ء منہ بھی نہیں دیکھا۔کبھی جمعہ پہ اتفاقاً چلے گئے تو چلے گئے اور جانا اتفاقاً ہی ہومگر یہ ثابت کرتا ہے کہ احمدیت کا پیغام ہی ان کو نہیں پہنچا ہوا۔تو اگر آپ بھرتی کی خاطر لوگوں کو پیغام دے رہے ہیں تو یہ وہ پہلی اینٹ ہے جو کج رکھی گئی اور اس پر ا گر فلک تک بھی تعمیر کریں گے تو وہ ساری عمارت ٹیڑھی چلے گی۔اس لئے اپنے دل کا تقویٰ جانچنے کی ضرورت ہے۔کوئی شخص بھی اس لئے تبلیغ نہ کرے کہ مجھے دکھا سکے۔اگر چہ بعض تبلیغ کرنے والے اس نیت سے مجھے بتاتے ہیں کہ میری دعائیں ان کے شامل حال ہو جائیں گی مگر ان کے دل کا حال اللہ جانتا ہے۔اگر اللہ کے نزدیک وہ اس لئے مجھے بتا رہے ہیں کہ کارکردگی کے نمبر لکھے جائیں اور وہ زیادہ متقی شمار ہوں تو وہ ہرگز خدا کے رجسٹر میں متقی کے طور پر نہیں لکھے جائیں گے۔اُن کی کوششوں کے نتیجہ میں جو احمدی بنائے گئے تھے وہ آخر آپ سے بے وفائی کریں گے اور جب خصوصیت سے مُلاں اس بات کی تلاش میں ہے کہ کہیں Census میں احمدیوں کی تعداد نہ بڑھ جائے اور اس کے پیچھے مرکز کا ایک وزیر بیٹھا ہوا ہے جو مسلسل ان کی راہنمائی کر رہا ہے اور حکم دے رہا ہے ڈپٹی کمشنروں اور کمشنروں کو کہ جب بھی کوئی ایسا واقعہ مولوی ان کی نظر میں لائیں لازماً ان لوگوں کو قید کرو اور ان پر طرح طرح کے مظالم کرو اور کوشش کرو کہ یہ اپنے عہد سے پھر جائیں۔جب یہ کوشش ہو رہی ہو ساتھ ساتھ اور اس کے قطعی شواہد مجھ تک پہنچ رہے ہوں کہ جو اپنی دانست میں راجہ بنا ہوا ہے وہ عام انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں ، دھوکا دے رہا ہے دنیا کو اور مولویوں کے ساتھ مشورے کرتا ہے اور حکومت کے بڑے کارندوں کو حکم دیتا ہے اور اس حکم سے مجبور ہوکر جب ہمارے احمدی حضرات ان تک پہنچ کر صورت حال واضح کرتے ہیں تو اس وقت ہمیں پتا چلتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔وہ کہتے ہیں دیکھو تمہیں پتا نہیں ہم بے بس ہیں، ہم احکامات کی تعمیل میں بے بس ہیں جو اوپر سے آتے ہیں۔اگر چہ انہوں نے بتایا نہیں کہ کس سے آتے ہیں لیکن ہماری دوسری معلومات اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا مولوی بڑ بولا بہت ہے، وہ اپنا فخر بنانے کی خاطر مجالس میں باتیں کرتا ہے کہ راجہ ظفر الحق نے ہمیں آرڈر دیا ہوا ہے۔وہ کہتا ہے ہم تمہارے ساتھ ہیں، حکومت تمہارے ساتھ ہے تو اس طرح وہ مولوی کا بڑ بولا پن ہمارا مددگار ہو جاتا ہے اور افسر یا اعلیٰ افسر یہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ اوپر کے احکامات سے مجبور ہے لیکن اکثر وہ بڑبولا نہیں ہوتا ہے چارہ، اپنی معذوری کا اظہار کرتا ہے۔مولوی ہماری مدد کے لئے آگے آتا ہے کہ پوچھنا ہے تو ہم سے پوچھئے