خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 176 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 176

خطبات طاہر جلد 17 176 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء ہو جاؤ تا کہ خدا تم پر فضل کرے، اس سے کچھ باہر نہیں (ہے)۔اب یہ ہماری تربیت کے لئے ایک بڑا عظیم الشان لائحہ عمل ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرما دیا اور اس کی باریک راہوں سے ہمیں آگاہی فرمائی۔فرمایا: میں تمہیں بار بار نصیحت یہی کرتا ہوں کہ تم ایسے پاک صاف ہو جاؤ جیسے صحابہ نے اپنی تبدیلی کی۔انہوں نے دنیا کو بالکل چھوڑ دیا گویا ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے۔اسی طرح تم اپنی تبدیلی کرو۔“ الحکم جلد 6 نمبر 39 صفحہ: 9 مؤرخہ 31اکتوبر 1902ء) اب یہ نہیں فرمایا کہ دنیا کو چھوڑ دیا اور ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے کیونکہ صحابہ میں بڑے بڑے خوش پوش صحابہ کا ذکر ملتا ہے جو اللہ اور حضرت محمد رسول اللہ صل للہ یہ تم کو بہت پیارے تھے۔خود حضرت اقدس محمد رسول الله صلی ایام کی خوش پوشی کا ذکر ملتا ہے۔بعض دفعہ باہر سے کوئی بہت اعلیٰ درجہ کا خوب صورت دلکش تحفہ آیا تو آپ نے وہ پہن لیا یہ بھی شکر کا ایک اظہار ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے پہلے قطرہ کو جیسے انسان زبان پر لیتا ہے وہی محبت ہے جس کا یہاں ذکر چل رہا ہے۔تو فرمایا: ” جیسے صحابہ نے اپنی تبدیلی کی۔انہوں نے دُنیا کو بالکل چھوڑ دیا گویا ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے، ” گویا ٹاٹ کے کپڑے پہنے کا مطلب ہے کہ اگر خدا طلبی سے غربت اختیار کرنی پڑے اور دُنیا ہاتھ سے جاتی رہے، دنیا کے مال و دولت نہ رہیں اور واقعہ ٹاٹ پہننا پڑے تب بھی اس کی کوئی پرواہ نہیں کرنی۔ٹاٹ پہننے کے لئے اپنے آپ کو ذہنی طور پر اور قلبی طور پر تیار رکھنا یہ مضمون ہے جو یہاں بیان ہو رہا ہے۔اگر آپ تیار رکھیں گے تو گویا ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے۔خدا کے نزدیک وہ قربانی جو آپ سے لی نہیں گئی لیکن ذہنی طور پر آپ تیار ہیں وہ اللہ کے نزدیک ایسی ہی ہے جیسے ہوگئی اور اکثر اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے یہی سلوک ہوتا ہے۔مطالبہ کرتا ہے یہ کرو، وہ کرو، جو بہت سخت بھی ہوتے ہیں ، نرم بھی ہوتے ہیں لیکن جو قلبی طور پر تیار ہو جائے کہ میں ان مطالبوں کو بالآخر پورا کروں گا اللہ کے ہاں وہ ایسا ہی لکھا جاتا ہے جیسے اس نے وہ مطالبات پورے کر دیئے۔پس ٹاٹ کے کپڑوں کے تعلق میں آپ کو اپنے سوٹ اور گاؤن بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ نہیں کہ سب اتار کے پھینک دیں اور واقعہ ٹاٹ کی سلائیاں شروع کر دیں۔ہاں یہ ارادہ رکھیں اور اس میں پختہ ہوں، اس میں نیت بالکل