خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 168
خطبات طاہر جلد 17 168 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء اور جو شخص یہ طریق اختیار نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ اب کشتی نوح میں جس طرح کی عبارت ہے ہم میں سے نہیں ہے یہ کتاب البریہ جلد 13 صفحہ 17 سے بھی جو عبارت لی گئی ہے اس میں بھی یہی الفاظ ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہے۔مطلب یہ ہے کہ میں جس طرح کی جماعت چاہتا ہوں وہ اس قسم کی جماعت میں شامل نہیں ہے۔اگر کوئی ہماری جماعت میں سے مخالفوں کی گالیوں اور سخت گوئی پر صبر نہ کر سکے تو اس کا اختیار ہے کہ عدالت کے رو سے چارہ جوئی کرے۔“ اب جہاں تک انصاف کا تقاضا ہے وہ ساتھ بیان فرما دیا۔اگر کوئی گالیوں اور سخت گوئی پر صبر نہ کر سکے۔ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو نہیں کر سکتے تو لا زما نہیں کہ وہ غلط ہوں گے مگر وہ نسبتاً ایک ادنیٰ درجہ کے ممبران جماعت احمد یہ بنیں گے جبکہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کو زیادہ اعلیٰ درجہ پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں۔”ہم میں سے نہیں“ کہتے ہی ساتھ ان کی براءت بھی فرما دی۔اگر کوئی ہماری جماعت میں سے مخالفوں کی گالیوں اور سخت گوئی پر صبر نہ کر سکے تو اس کا اختیار ہے کہ عدالت کی رو سے چارہ جوئی کرے۔“ اس سے مراد بالکل واضح ہوگئی ہے کہ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور رسول اللہ صلی یتیم کے خلاف بدگوئی مراد نہیں ہے کیونکہ اس میں عدالتی چارہ جوئی کیسے کر سکتے ہیں۔بالکل ظاہر ہے کہ اس کے نفس پر حملہ کیا گیا ہے اور نفس پر جو حملہ ہے اُس میں عام اور بالا تعلیم یہی ہے کہ وہ بدلہ نہ اُتارے۔اگر وہ اپنے نفس پر حملہ کو برداشت کر جائے اور نہ اُتارے تو اس کی عقل لا ز ما تیز ہوگی۔اور اس کو وہ معرفت نصیب ہوگی جس کی مسیح موعود علیہ السلام بات فرمارہے ہیں۔تو عدالتی چارہ جوئی نے اس بات کو خوب کھول دیا کہ جس لازمی صبر کی تعلیم دی جارہی وہ نفس کے خلاف صبر ہے لیکن وہ مقامات جہاں مسیح موعود علیہ السلام نے سختی فرمائی ہے وہ اپنے نفس کے خلاف نہیں تھے۔سارے وہ مقامات ہیں جو رسول اللہ ملا لی تم پر حملہ کے خلاف تھے اور اُن میں کسی عدالتی چارہ جوئی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔فرمایا: اختیار ہے کہ عدالت کے رو سے چارہ جوئی کرے۔مگر یہ مناسب نہیں ہے کہ سختی کے مقابل پر سختی کر کے کسی مُفسدہ کو پیدا کریں۔“