خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 167
خطبات طاہر جلد 17 167 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء بھی غصہ آئے تو پانی پی لو۔اب پانی پینے کے درمیان اور غصہ کے درمیان وقفہ پڑ جائے گا اگر پھر بھی زائل نہ ہو تو لیٹ جاؤ۔تو وہ حدیث تفصیلی الفاظ میں تو اس وقت مجھے یاد نہیں لیکن مضمون یہی ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے۔اس حدیث کی حکمت یہ ہے کہ جذبات یا غصوں کے نتیجہ میں فوری عمل نہ کیا کرو، ٹھہر جایا کرو، دل پر غور کیا کرو۔یہ ہے وقفہ جوفر است پیدا کرتا ہے اس وقفہ کے بغیر فراست پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔پس اپنے روز مرہ کے دستور کو اس زریں نصیحت کے تابع کر لو کہ جب بھی کسی بات کی خواہش دل میں پیدا ہو، نظر اگر بکھر جائے اور اس کے نتیجہ میں جذبات پیدا ہوں، کوئی بھی کیفیت ہو اور کسی وجہ سے کسی سے تکلیف پہنچے اور غصہ پیدا ہو تو ان کے صحیح رد عمل کی تلاش کرو۔جو پہلا پیغام ہے وہ غلط ہوگا۔اس پیغام پر کان نہ دھر و۔اتنا وقفہ لو جتنا رسول اللہ صلی للہ کی تم نے بیان فرمایا ہے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت سے ظاہر ہے۔پھر جب غور کرو گے تو عقل میں ایک نئی چمک پیدا ہو جائے گی اور معرفت نصیب ہوگی۔یہ مضمون ہے جس کو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں کہ اس اصول کو محکم پکڑو۔ہر ایک قوم کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔نرمی سے عقل بڑھتی ہے۔یہ نرمی سے پیش آنا اس غور و خوض کے بعد کی نرمی ہے جس کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں ورنہ جہاں عقل کا تقاضا یہ تھا کہ کسی قوم سے سختی سے پیش آیا جائے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سختی سے بھی پیش آئے۔تو اگر آپ اس عبارت کو نہیں سمجھیں گے تو آپ جہاں سختی کی ضرورت ہے وہاں سختی سے باز آجائیں گے حالانکہ مقتضائے حال کو پورا کرنا ہی فصاحت و بلاغت ہے یعنی جو بھی صورت حال کا تقاضا ہو اس کا صحیح جواب یہ آپ کو فصیح و بلیغ بنائے گا، اس سے آپ کی عقل روشن ہوگی ، اس سے آپ کو معرفت نصیب ہوگی۔تو ہر ایک قوم کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں آریہ قوم کے بعض گندے حملوں کے جواب میں سختی برتی ہے وہاں گویا آپ اپنی نصیحت ہی کو بھول رہے ہیں۔نرمی سے پیش آنے کے درمیان وہ حدیث والا وقفہ شامل ہے تدبر اور غور وفکر والا وقفہ شامل ہے۔اس کے بعد ا کثر آپ کے دل کا فتویٰ یہ ہوگا کہ ان قوموں سے نرمی برتنی چاہئے پھر جو نرمی برتیں گے وہ عقل اور معرفت کی نرمی ہوگی۔نرمی سے عقل بڑھتی ہے اور بردباری سے گہرے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔جب یہ سوچنے کا موقع ملتا ہے تو انسان گہرے معاملات میں اترتا ہے، اس کی تہہ تک پہنچتا ہے، پہچانتا ہے کہ عرفان کیا ہے اور سطحی باتیں کیا ہیں۔