خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 155 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 155

خطبات طاہر جلد 17 155 خطبہ جمعہ 6 مارچ1998ء اب دیکھیں چھوٹی سی بات سے معاملہ شروع کیا اور کہاں تک پہنچا دیا اور سفر آسان دکھایا۔اب جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں سفر شروع کرو کوئی اس میں مشکل ہے؟ جو کچھ ہے حاضر کر دو۔محبت سے پیش کرو، عاجزی کے ساتھ پیش کرو اور یہ عرض کرو کہ خدا یا ہمارے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیں مگر تیرے دین کی محبت ضرور ہے اس محبت کی خاطر مجبور ہیں کہ جو کچھ بھی ہے تیرے حضور پیش کر دیں۔پھر فرمایا کہ دیکھو اس کے ساتھ خدا کیا سلوک فرمائے گا۔د مگر وہ درخت اور پودے جو پھل نہ لاویں اور گلنے اور خشک ہونے لگ جاویں ان کی مالک پرواہ نہیں کرتا۔“ پس پھل نہ لاویں اور گلنے اور خشک ہونے شروع ہو جائیں جبکہ پھل اللہ ہی لاتا ہے تو ان دو باتوں کا تضاد کیا معنی رکھتا ہے۔ابھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ فرما چکے ہیں کہ پھل اللہ کی طرف سے ہی عطا ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ پورے جو پھل نہ لاویں اور گلنے اور خشک ہونے لگ جاویں اُن کی مالک پرواہ نہیں کرتا۔پھل نہ لاویں اور گلنے اور خشک ہونے لگ جاویں میں ان کا ارادہ شامل ہے۔وہ اپنے آپ کو خدا کے حضور اصلاح کے لئے پیش نہ کریں، جس حالت میں ہیں اسی میں رہیں اور اپنی خدمات دین کے لئے حاضر نہ کریں وہ پودے ہیں جو خدا تعالیٰ کے نزدیک پھل نہ لانے اور گلنے سڑنے کا گویا ارادہ کر چکے ہیں۔ان کا فیصلہ یہی ہے کہ ہم نے خوشحال پودوں کی طرح نہیں بننا، ہم اپنے آپ کو اسی طرح رکھیں گے اور وہ مالک کے نہیں رہتے بلکہ غیر کے ہو جاتے ہیں، وہ کسان کے نہیں رہتے بلکہ اسی لائق ہوتے ہیں کہ انہیں کاٹ کر الگ پھینک دیا جائے۔چنانچہ یہ مراد ہے کہ جو پھل نہ لاویں اور گلنے اور خشک ہونے لگ جاویں ان کی مالک پرواہ نہیں کرتا ورنہ وہی بدیاں موجود ہوں اور وہ مالک کی پرواہ کریں تو مالک ضرور ان کی پرواہ کرتا ہے۔وہ بدیاں موجود ہوں اور مالک کی پرواہ نہ کریں تو اللہ بھی ان کی پرواہ نہیں کرے گا۔اُن کی مالک پرواہ نہیں کرتا کہ کوئی مویشی آکر ان کو کھا جاوے یا کوئی لکڑ ہارا ان کو کاٹ کر تنور میں پھینک دیوے۔سو ایسا ہی تم بھی یا درکھو۔اگر تم اللہ تعالیٰ کے حضور میں صادق ٹھہرو گے، تو کسی کی مخالفت تمہیں تکلیف نہ دے گی۔“ اللہ تعالیٰ کے حضور میں صادق ٹھہرو گے۔“ اس کے لئے صدق کی وہی ابتدائی شرط ہے جو میں بیان