خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 151
خطبات طاہر جلد 17 151 خطبہ جمعہ 6 مارچ1998ء اور اس ایمان والے کے شیطان قریب بھی نہیں آتا۔“ اب ہر روز شیطان سے جو جنگ شروع کر رکھی ہے ہم لوگوں نے ، شیطان سے جنگ ایک ایسے وقت تک جاری رہتی ہے جس وقت تک انسان خدا کی پناہ میں نہیں آجاتا۔جب آجاتا ہے تو شیطان اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتا کیونکہ اللہ کی پناہوں میں شیطان کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔وہ بھی تو وہاں ہی آجاتا ہے جہاں اُس کو تھوڑی سی بھی گنجائش مل جاتی ہے۔“ البدر جلد 2 نمبر 45،44 صفحہ : 3 مؤرخہ 24 نومبر و 1 دسمبر 1904ء) پاؤں رکھنے کی جگہ ملے تو تب شیطان وہاں جاتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا سارے گناہوں سے تو بہ کرو مطلب یہ ہے کہ شیطان کے لئے قدم رکھنے کی گنجائش نہ چھوڑو کیونکہ جب وہ ایک دفعہ قدم رکھ لے تو اس کا منحوس قدم اپنے اثرات دکھانے لگتا ہے اور وہ اور جگہ بنالیتا ہے۔جس اونٹ اور بدوی کا قصہ میں نے آپ لوگوں کے سامنے پہلے بھی بیان کیا ہے اصل میں وہی صورت حال ہے جو یہاں پیدا ہوتی ہے۔کہتے ہیں ایک بدوی اپنا خیمہ لگا کے بیٹھا ہوا تھا اور شدید ٹھنڈی رات تھی تو اس کے اونٹ نے اندر سر کیا اور اس نے کہا مجھے سر اندر کر لینے دو کیونکہ بہت سردی ہے، باقی تم لیٹے رہو آرام سے۔تو جب سر گرم ہو گیا تو اسے پتالگا کہ اس سردی میں گرمی کا کیا مزا ہے تو اس نے تھوڑ اسا اور گردن گھسیڑ دی۔اس نے کہا گردن بھی تو سر کے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے یا سرگردن کے ساتھ لگا ہوا ہے اس غریب پر میں کیوں ظلم کروں اس لئے ذرا ایک طرف ہٹ جاؤ۔پھر باقی جسم سخت سردی محسوس کر رہا تھا جبکہ جسم کا ایک حصہ گرمی محسوس کر رہا تھا۔تھوڑا سا اور آگے گیا۔اس نے کہا میری ٹانگوں کا کیا قصور ہے اگلے حصہ کو کم سے کم تھوڑا سا آرام آنے دو۔وہ بے چارہ ایک کونے سے لگ گیا اور کچھ دیر کے بعد کہا باہر جانا کیونکہ میرے پچھلے حصہ کا بھی حق ہے۔تو اس طرح بدیاں رفتہ رفتہ اپنی جگہ بنایا کرتی ہیں اور ایک دفعہ انسان بدی کو موقع دیدے کہ وہ اندر آ جائے تو پھر بدی نہیں چھوڑے گی اور یہی شیطان کا حیلہ ہے۔اب جتنے انسان بھی ، جب بھی بدی میں مبتلا ہوتے ہیں وہ اپنی نفسیاتی کیفیت پر غور کر کے دیکھ لیں ہمیشہ شروع میں خیال آتا ہے اتنا سا کرنے میں کیا حرج ہے۔معمولی سا۔اور وہ معمولی سا جب ایک دفعہ کر بیٹھے تو اس سے اگلا قدم اٹھانا اس کا ایک لازمہ بن جاتا ہے۔دُنیا بھر میں جتنی ڈرگ ایڈکشن (Drug Addiction) ہے وہ اسی اصول پر