خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 134
خطبات طاہر جلد 17 134 خطبہ جمعہ 27 فروری1998ء اس بات کو ، اس نکتہ کو جو اس تفصیلی حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔اس کے فلسفہ کو سمجھ لیں۔اگر اس کے فلسفہ کو سمجھ لیں گے تو پھر آپ میں سے صرف وہی میرا مددگار ہوگا جس کو بنی نوع انسان سے محبت ہے۔جس کو بنی نوع انسان سے محبت نہیں اور تعلق نہیں ان پر میری باتوں کا کوڑی بھر بھی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اس مضمون کا تعلق محبت سے ہے جیسے خالق کو تخلیق سے محبت ہے اسی طرح خدا کے بندوں کے ساتھ آپ کی محبت ان کی کمزوریوں میں آپ کو بے چین کر دیتی ہے اور وہ بے چینی ہے جس کے لئے تلاش میں نظریں اٹھتی ہیں اور اُفق کو کھنگالا جاتا ہے نظروں سے کہ شاید کسی کونے سے ہماری کھوئی ہوئی چیزیں واپس آجائیں۔پس تمام جماعت کی تربیت کا یہ بنیادی راز ہے۔اگر آپ کسی شخص کو کھویا ہوا دیکھیں اور دل میں نفرت پیدا ہو یا غصہ پیدا ہو یا تحقیر کے خیالات آئیں کہ یہ تو کچھ بھی نہیں گھٹیا سا انسان تھا، ایک گھٹیاسی لڑکی تھی ، گھٹیاسی عورت، گھٹیا سامرد، یہ جاتے ہیں تو جائیں دفع ہوں۔اگر یہ خیال آئے تو آپ خود متکبر ہیں پھر آپ کو لوٹنے کی فکر کرنی چاہئے۔آپ کو خود اپنے خدا کی طرف پہلے لوٹنا ہوگا ورنہ ان کھوئے ہوئے لوگوں کی آپ تلاش کر ہی نہیں سکتے اور تربیت کے کام میں میری راہ میں سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ بڑے بڑے نیک اور مخلص کارکن اور کارکنات بھی تربیت کرتے وقت اپنے آپ کو اس شخص سے اعلیٰ سمجھتے ہیں جس کی تربیت کرنی ہے اور یہ نہیں جانتے کہ ان کی تربیت پر وہ مجبور ہیں اپنی محبت اور پیار کے نتیجہ میں اور محبت اور پیار جتنا زیادہ ہوں گے اتنا اعلیٰ اور ادنیٰ کا فرق مٹ جائے گا۔یہ وہ مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ملفوظات میں اور کھول کر بیان فرمایا ہے۔پس جو واقعہ سویڈن میں گزرا اس کا بھی خالصہ اس سے تعلق تھا۔ہر گز جماعت کو ان لوگوں کی ضرورت نہیں تھی کہ ان کے بغیر جماعت چل نہیں سکتی لیکن جماعت کی ان سے محبت اور نظام جماعت کی ان سے محبت کو ضرورت تھی اور اس کے لئے ہم کوشاں رہے۔سالہا سال میں نے کوششیں کیں کہ ان لوگوں کو اپنا اندرونہ دیکھنے کی توفیق نصیب ہو اور وہ سمجھ لیں کہ نظام جماعت ایک تقدس رکھتا ہے۔اس کے تقدس میں خلل ڈالنے والا ہر شخص جو بے ہودہ گوئی کرتا ہے، بدتمیزی اختیار کرتا ہے اس سے قطعاً ان کو تعلق تو ڑ لینا چاہئے اور یہ ان کے دل کا طبعی جذ بہ ہو گا۔پس یہ جو مضمون ہے کہ ایک شخص اس نظام کو احترام کی نظر سے نہیں دیکھتا، اس کی تخفیف کرتا ہے جو اللہ کی نمائندگی کرتا ہے وہاں اونٹنی کی