خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 113

خطبات طاہر جلد 17 113 خطبہ جمعہ 20 فروری1998ء اب یہ سادہ سی عام بات دکھائی دیتی ہے جو ہر کسی کو معلوم ہونی چاہئے مگر ایمان سچا ہو تو اس کے ساتھ اللہ کی کبریائی داخل نہ ہو، یہ بالکل غلط اور بے معنی تصور ہے۔اس ایک جملہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام، ہر قسم کے گناہوں پر جرات کا فلسفہ بیان فرما دیا ہے اور ان کا علاج صرف ایک ہے، ایمان۔اسی مضمون کو بعض اور تحریروں کی صورت میں میں نے آپ کے سامنے پیش کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر تم دیکھ لو کہ اس سوراخ میں سانپ ہے، جانتے ہو کہ زہریلا ہے اور پل سے منہ نکال کر پھر تھوڑ اسا پیچھے ہٹ جاتا ہے ناممکن ہے کہ تم اس میں انگلی ڈالو خواہ وہ سانپ بظاہر کیسا ہی خوبصورت کیوں نہ دکھائی دے۔کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحه : 66) تو ایمان کی حقیقت انسان کے عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔اگر جانتا ہے کہ میرا عمل اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور اس کی پکڑ سے پھر مجھے کوئی بچا نہیں سکتا تو ناممکن ہے کہ وہ گناہ پر جرات کرے۔پس ایمان کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت یعنی جلال ، تقدس، کبریائی ، قدرت اور سب سے بڑھ کر لا الہ الا اللہ کا حقیقی مفہوم انسان کے جسم میں داخل ہو جائے یعنی اس میں خدا کے سوا باقی کوئی نہ رہے۔سارے اسلام کا خلاصہ یہ ہے، سارے ایمان کا خلاصہ یہ ہے۔تمام زندگی کے اونچ نیچ کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ اس کا خلاصہ اسی عبارت میں بیان فرما دیا گیا ہے۔کبھی انسان خدا کے قریب تر ہوتا ہے تو سمجھتا ہے کہ میں اونچا ہو گیا ہوں کبھی وہ خدا سے دُور ہٹتا ہے تو سمجھتا ہے کہ میں نیچا ہو گیا ہوں۔یہ زیرو بم زندگی میں پیدا ہوتے رہتے ہیں اگر آپ اپنے نفس پر غور کر کے دیکھیں تو ہمیشہ ان کا تعلق ایمان کی وضاحت یا اس کے ابہام کے ساتھ ہوگا۔جہاں ایمان، جیسا کہ کبھی کبھی تجربہ میں آیا ہے، ایک دم کھل کے اپنی جلوہ نمائی کرے وہ وقت ہے جب انسان حقیقت میں سب سے اونچا ہوتا ہے اور بدی سے دور تر ہوتا ہے اور جب انسان کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتا ہے، ایمان رکھتے ہوئے بھی اس کے تقاضوں سے غافل ہو جاتا ہے تو وہ ایک اندھیرے کے سائے میں چلا جاتا ہے اور وہاں سے گناہ کئی بھیس بدل کر اس پر حملہ آور ہوتے ہیں۔پس اس پہلو سے حضرت اقدس علیہ السلام کی مزید نصائح میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور آپ ہی کے الفاظ میں ان نصائح کا لطف آتا ہے ورنہ اپنی زبان میں ترجمہ محض اس لئے کرتا ہوں کہ بہت سے ہمارے کم تعلیم یافتہ آن پڑھ لوگ بھی ہیں ان کو اگر سمجھایا نہ جائے تو وہ عبارتیں ان کو سمجھ نہیں آسکتیں۔فرمایا: