خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 112

خطبات طاہر جلد 17 112 خطبہ جمعہ 20 فروری1998ء یہ آیت کریمہ زندگی اور موت کا فلسفہ بیان فرما رہی ہے۔كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ میں ہر شخص جس کی جان ہے، ہر وجود جس کی جان ہے اس میں جانور بھی شامل ہیں اور انسان بھی شامل ہیں، جو بھی نفس رکھتا ہے اس نے بہر حال مرنا ہے اور جو جزا دئے جانے والے لوگ ہیں ان کو قیامت کے دن جزا دی جائے گی یعنی بھر پور جزا دی جائے گی۔اس تعلق میں جو میں اقتباسات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑھ رہا ہوں اور پچھلے خطبہ میں بھی ایک اقتباس جاری تھا جب وقت ختم ہو گیا اب میں دوبارہ پڑھ رہا ہوں ، وہ یہ ہے۔”دیکھو دواؤں کی طبیب شناخت کر لیتا ہے۔بنفشہ، خیارشنبر تر بدمیں اگر وہ صفات نہ پائے جائیں جو ایک بڑے تجربہ کے بعد ان میں متحقق ہوئے ہیں تو طبیب ان کو ردی کی طرح پھینک دیتا ہے اسی طرح پر ایمان کے نشانات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بار بار اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔“ تو جس طرح ایک طبیب اس دُنیا کی زندگی میں ان دواؤں کو جن کا بار ہا تجربہ ہو چکا ہے جب اپنے اثر سے خالی دیکھتا ہے تو وہ رڈی کی طرح اٹھا کے پھینک دیتا ہے تو ایمان کے بھی ایسے ہی نشانات ہیں جو دلوں میں ظاہر ہونے چاہئیں یعنی انسان کے اعمال میں ظاہر ہونے چاہئیں۔اگر ایمان کا گھونٹ پیا ہو اور وہ اثر نہ دکھائے تو کیا خدا کو طبیب جتنا بھی علم نہیں ہوگا کہ وہ پہچان لے کہ یہ ایمان گندہ اور ناقص تھا۔اس میں ایمان کی صفات ہی نہیں ہیں۔پس دوا ئیں اپنی صفات سے پہچانی جاتی ہیں ناموں سے نہیں پہچانی جاتیں اور ایمان بھی اپنی صفات سے پہچانا جاتا ہے نام سے نہیں پہچانا جاتا۔یہ مضمون ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام بیان فرما رہے ہیں اور وہ حصہ عبارت کا جو پڑھنے سے رہ گیا تھا وہ آج میں پڑھ کے سناتا ہوں۔یہ سچی بات ہے کہ جب ایمان انسان کے اندر داخل ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی عظمت یعنی جلال ، تقدس، کبریائی ، قدرت اور سب سے بڑھ کر لا الہ الا اللہ کا حقیقی مفہوم داخل ہو جاتا ہے۔“ الحکم جلد 5 نمبر 1 صفحہ :4 مؤرخہ 10 جنوری 1901ء)