خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 109 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 109

خطبات طاہر جلد 17 109 خطبہ جمعہ 13 فروری1998ء اب یہ جو تجربہ ہے یہ ہر انسان کو کبھی کبھی ضرور ہو جاتا ہے۔بسا اوقات وہ جب کسی بری بات سے بھاگتا ہے تو اس کا دل گواہ ہو گا کہ اس کے نتیجہ میں ضرورتسکی اور راحت اور اطمینان پائے گا اور جو کلیۂ خدا کی طرف دوڑ رہا ہو اس کے ہر فیصلہ میں راحت اور اطمینان ہوگا۔مگر ہر چیز کے لئے نشان ضرور ہوتے ہیں۔جب تک اُس میں وہ نشان نہ پائے جاویں ، وہ معتبر نہیں ہوسکتی۔( اب وہم و گمان کی بات نہیں ہے کہ آپ سمجھیں کہ ہاں ہم نے یہی کام کرنا ہوتا ہے۔فرمایا کچھ نشان ضروری ہیں۔) دیکھو دواؤں کی طبیب شناخت کر لیتا ہے۔بنفشہ، خیارشنبر تربد میں۔“ یہ وہ دوائیں ہیں جو پرانے رسمی طب میں استعمال ہوا کرتی تھیں ابھی بھی مختلف شکلوں میں آج کے اطبا بھی استعمال کرتے ہیں۔فرماتے ہیں: اگر وہ صفات نہ پائے جائیں جو ایک بڑے تجربہ کے بعد اُن میں متحقق ہوئے ہیں تو طبیب اُن کو ر ڈی کی طرح پھینک دیتا ہے۔“ دواؤں کی پہچان ان ناموں سے نہیں جن ناموں سے وہ بکا کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وہ دوائیں جب طبیب خریدتا ہے تو پھر تجربہ کر کے دیکھتا ہے کہ ان کا فائدہ بھی ہوا ہے کہ نہیں۔اگر وہ فائدہ اس میں نہ ہو تو وہ مصنوعی دوائیں ہیں بے کار دوائیں ہیں اور آج کل Third World میں دواؤں کے نام پر پتا نہیں کیا کیا بک رہا ہے اور اس لائق ہوتی ہیں اکثر دوائیں کہ وہ رڈی کی طرح ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جائیں۔اسی طرح پر ایمان کے نشانات ہیں۔“ فرما یا ایمان بھی بعض نشانات رکھتا ہے اگر وہ نشانات تم میں نہ ہوں تو محض وہم ہے کہ تم میں ایمان ہے اس لئے اپنے ایمان کو اس طرح پر کھو جیسے طبیب دواؤں کو پرکھتا ہے اور وہ ایمان ایسے ہیں۔فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ان کو بار بارا اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔“ (الحکم جلد 5 نمبر 1 صفحہ:4،3 مؤرخہ 10 جنوری 1901ء) وہ ایسے نشان تو نہیں جو مخفی ہوں یا چھپے ہوئے تم سے، تمہارے دماغ میں آئیں ہی نہ۔خدا کا کلام پڑھو تو ایمان کی ہر علامت کا اس میں بیان ہے۔اس سے اپنے آپ کو پرکھو کیونکہ وہ دوا جو تجویز ہوئی ہے