خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 956 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 956

خطبات طاہر جلد 16 956 خطبہ جمعہ 26 دسمبر 1997ء حذیفہ کو سمجھانا بھی مقصود تھا۔فرمایا انكَ عَلَيْهِ أو عَلَيْهَا لَجَرِی جب یہ بات سنی تو تب حذیفہ کو ہوش آگئی اور جو فتنے کی حقیقت تھی جس کے لئے کسی فساد کے زمانے کے دیکھنے کی ضرورت ہی کوئی صلى الله نہیں وہ دائمی حقیقت رسول اللہ یہ بیان کر چکے تھے اور ان کو شوق تھا دوسری باتیں کرنے کا۔حضرت عمر نے جب یہ ایک قسم کا ڈانٹا اور حقیقت حال کی طرف توجہ کرنے کی نصیحت فرمائی تو اب دیکھیں وہی حذیفہ کیا بات کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں قُلتُ فِسَةُ الرّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَ مَالِهِ وَ وَلَدِهِ _ رسول الله یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ انسان کا فتنہ اس کے اھلہ اپنے اہل وعیال میں ہے وَ مَالِہ اور اپنے مال میں ہے وَوَلَدِہ اور اپنی اولاد میں ہے وَجَارِہ اور اپنے پڑوس میں ہے تُكَفَّرُهَا الصلوةُ والصومُ وَالصَّدَقَةُ وَالأمر والنهى - اب اس کا جو ترجمہ دیا گیا ہے اس میں یوں لگتا ہے جیسے کفارہ ہے وہ، کفارہ نہیں ہے۔تکفر کا مطلب ہے اس کو دور کرتا ہے، ہٹاتا ہے۔پس آنحضرت ﷺ نے جو اصل فتنہ بیان فرمایا ہے اور اس سے مومن کو ہمیشہ کے لئے متنبہ کر دیا وہ یہ فتنہ ہے۔یہ مراد نہیں کہ تم ایسے زمانے میں آؤ جس میں ہر طرف فساد پھیلا ہوتب تم ان باتوں کی طرف توجہ کرو کیونکہ فتنے کا جو علاج بتایا ہے یہ روز مرہ کی مومن کی زندگی ہے اور اصل فتنہ ہے ہی وہی۔اگر یہ گھر کا فتنہ ٹھیک ہو جائے، اگر آپ اپنے اہل و عیال کو صیح راستہ پر ڈال دیں تو اس سے بہتر اور کوئی فتنوں کا علاج نہیں ہے۔پس وہی حذیفہ جن کی اکثر حدیثیں لوگ ایسے ایسے فتنوں کے متعلق پیش کرتے ہیں جن سے انسان کی عقل چکرا جاتی ہے۔حضرت عمر کی نصیحت کو سمجھ گئے اور اس فتنے کی بات کی جو سب سے صلى بڑی اہمیت رکھتا ہے اور وہ فتنہان کو یاد تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا ہوا ہے۔پس حدیثوں پر غور کرنے اور ان میں ڈوبنے سے بڑے بڑے مطالب ہاتھ آتے ہیں سرسری باتیں کر کے گزرجائیں تو آپ کو کچھ بھی سمجھ نہیں آئے گی۔پس رسول اللہ ﷺ کا کلام جیسے کہ میں نے عرض کیا ہے خود بولتا ہے، عظیم الشان معانی اپنے اندر رکھتا ہے۔پس اس فتنے کی فکر کرو جو تمہارے گھروں میں ہورہا ہے، تمہارے بچوں کی صورت میں رونما ہو رہا ہے، تمہارے اموال کی صورت میں رونما ہو رہا ہے اور اس کو دور کرنے کے لئے الصلوۃ والصوم دو ہی چیزیں ہیں۔نمازوں سے گھر کو بھر دو اور جب رمضان کے مہینے کے روزے آیا کریں اور ویسے بھی اپنے گھروں کو روزوں سے بھر دیا کرو ہر قسم کے فتنے سے نجات پاؤ۔انشاء اللہ تعالیٰ