خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 955 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 955

خطبات طاہر جلد 16 955 خطبہ جمعہ 26 دسمبر 1997ء فرمایا صبر کے مہینے یعنی رمضان کے روزے سینے کی گرمی اور کدورت کو دور کرتے ہیں۔وہ چونکہ گرم ملک تھا اور گرمی کے نتیجے میں تن بدن کو بعض دفعہ آگ سی لگ جایا کرتی تھی فرمایا، یہ گرمی کے مہینے میں خواہ کیسی ہی شدید گرمی ہو اگر رمضان کے روزے رکھے جائیں تو وہ دل کی سکینت کا موجب بنیں گے اور اس کو ایک اندرونی صحت عطا کریں گے جس کی وجہ سے بھڑ کی ختم ہو جائے گی اور بھر کی اکثر بیماری کے نتیجے میں ہوا کرتی ہے یا بُری باتوں کے لئے ہوا کرتی ہے، ان دونوں صورتوں میں رمضان تمہارے لئے ایک مفید چیز ہے۔اس میں کوئی بھی خرابی ایسی نہیں کہ تم اس خرابی کی وجہ سے اس سے دور بھا گو۔بدن کے لئے بھی اچھا ہے، روحانی صحت کے لئے بھی اچھا ہے، بھلائی ہی بھلائی ہے اور سب سے بڑی بھلائی تو یہی ہے کہ وہ اللہ سے ملا دیتا ہے۔صلى الله ایک اور حدیث میں یہ درج ہے، صحیح بخاری میں ، کہ روزہ فتنوں کا کفارہ ہے۔عن حذيفة قالَ كُنَّا جُلُوسًاً عِندَ عُمَر (صحيح البخارى كتاب مواقيت الصلواة باب الصلاة كفارة حديث : 525)۔حذیفہ نے بیان کیا کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے فَقَالَ ، حضرت عمر نے کہا تكُم يَحْفَظُ قَولَ رَسُولِ اللهِ علا تم میں سے کون ہے جسے حضرت اقدس محمد رسول اللہ کا یہ قول یاد ہے فی الفتنة فتنے کے متعلق یعنی چونکہ بہت سے فتنوں نے آنا تھا اور بعض صحابہؓ کو خصوصیت سے شوق تھا کہ وہ فتنوں کی باتوں کو از بر کرلیں تا کہ دنیا کو متنبہ کر سکیں کہ ایسے ایسے فتنے پیدا ہونے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مضمون کو صحیح رخ پر چلانے کے لئے یعنی فتنے سے مراد لوگ یہ سمجھتے ہیں قتل و غارت ہوگا ، لوگ بھاگے پھریں گے، افراتفری پیدا ہو جائے گی ان باتوں کا شوق ہو گیا ہو گا لوگوں کو ، جیسے نجومیوں کے پیچھے جاتے ہیں بتاؤ آئندہ کیا ہونا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان خیالات کا رخ صحیح جانب پھیرا ہے اس حدیث میں فرمایا تمہیں کوئی رسول اللہ ﷺ کی باتیں یاد ہیں فتنے سے متعلق۔فَقُلتُ حذیفہ بھی ان میں سے ہیں جن کو شوق تھا بڑی فتنوں کی حدیثیں یاد کی ہوئی ہیں ہم نے۔حذیفہ نے کہا ہاں مجھے، میں نے فتنہ کی باتیں سنی ہوئی ہیں۔قــال إِنَّكَ عَلَيْهِ أَو عَلَيْهَا لَجري کہ تم ان باتوں کے اوپر بڑے دلیر ہو۔جری بہادر کو کہتے ہیں۔اب اس دلیری میں بظاہر ایک تعریف بھی ہے اور یہ بھی بیان فرما دیا کہ تم ضرورت سے زیادہ بہادر بنے پھرتے ہو۔ان فتنوں کی باتوں کو سمجھے بغیر اردگرد بیان کرتے پھرتے ہو اور دلیری دکھاتے ہو اور