خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 87

خطبات طاہر جلد 16 87 خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء کسی قسم کا علم رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو تسبیح کا مضمون سمجھ جائے پھر حمد کے مضمون اس پر از خود روشن ہونے شروع ہو جائیں گے اور تسبیح کے مضمون کے لئے سچائی ضروری ہے۔کوئی سفر تسبیح کے مضمون میں ممکن ہی نہیں جب تک انسان کلیۂ سچا اور کلیۂ عادل نہ ہو۔سچائی اور عدل یہ دوشرطیں ہیں جن کے ساتھ انسان خدا تعالیٰ کی تسبیح کے وقت اپنے نفس کا محاسبہ کر سکتا ہے اور موازنہ کر سکتا ہے۔پس سچائی پر قائم ہو جائیں ، عدل سے فیصلے کریں۔اپنے قریب ترین انسان کے اندر بھی اگر کمزوری ہو تو اس سے مغفرت کا سلوک کریں مگر اس کو نظر انداز نہ کریں اس پر پردے نہ ڈالیں ان معنوں میں کہ گویا وہ کمزوری ہے ہی نہیں۔تو دوسروں کے معاملے میں جب آپ یہ سلوک کریں، جب پیارے ہوں تو اس وقت یہ بات مشکل ہو جاتی ہے۔اس لئے اس حوالے سے سفر کی بجائے نفس کے حوالے سے سفر شروع ہوا ہے کیونکہ انسان کو سب سے زیادہ پیارا خود انسان ہوا کرتا ہے اپنے سے زیادہ پیاری اور کوئی چیز نہیں ہے کسی اور کو اس پیار کے تقاضے پورے کرنے والے جو وجود ہیں جتنا جتنا قریب ہوں اتنے پیارے ہوتے چلے جاتے ہیں۔پس آخری صورت آنا کی ہے انسان کی اندرونی نفس۔قرآن کریم نے اس مضمون کو آگے جا کر بہت کھولا ہے۔آخری سورتوں میں بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ تمہیں وہم ہے کہ تمہارے بچے، تمہارے اقرباء، تمہارے محبوب تمہیں اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں۔جب عذاب کا وقت آتا ہے ، جب پکڑ کا وقت آتا ہے اس وقت پتا چلتا ہے کہ تم کس قدر جہالت کی حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے۔یہ پیارے اس لئے ہیں کہ تم اپنے آپ کو پیارے ہو جہاں تمہارے پیار کا تصادم ان کے پیار سے ہو گا لا ز ما تم اپنے حق میں فیصلہ دو گے انکے حق میں فیصلے نہیں دو گے۔پس مائیں اپنے بچوں کو پیش کر دیں گی کہ اے خدا یہ ہمارے عذاب کو ٹال دیں۔مائیں کہیں گی میرے اور میرے عذاب کے درمیان یہ بچہ حائل ہو جائے مجھے نجات مل جائے۔اس سے زیادہ اور خوفناک منظر کیا انسان سوچ سکتا ہے مگر قرآن کریم نے ان حقائق کو اتنی صفائی اور گہرائی کے ساتھ اس تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ انسان کے لئے غلط نہی کی کہیں کوئی ادنی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔پس تسبیح اگر ذات کے حوالے سے شروع ہوگی تو گردو پیش کے تمام تعلقات میں یہ صیح طور پر جاری ہو سکتی ہے ورنہ نہیں ہو سکتی۔اپنے اوپر جھوٹا رحم نہ کرو۔آنحضرت ﷺ کی طرح