خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 86
خطبات طاہر جلد 16 86 خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء ہولناک چینیں اٹھیں کہ اے خدا اس احتساب نے تو ہمارا کچھ رہنے ہی نہیں دیا، ہمارا سارا وجود غائب ہو گیا ہے۔تو ہی تو ہے اس کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔یفی ہے جو دراصل لا الله کا مضمون بتاتی ہے۔اپنے وجود کی نفی حقائق کے حوالے سے، فرضی باتوں کے حوالے سے نہیں ، اپنے عیوب پر نظر رکھتے ہوئے، ایک ایک عیب کو پہچانتے ہوئے ، اس کے داغوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ، اے خدا یہ بھی مجھ میں داغ ہے، یہ بھی داغ ہے، یہ بھی داغ ہے اور ہر زندگی کے دائرے میں یہ داغ ہیں۔پس کس کس دائرے سے میں سفر شروع کروں اور کس طرح ان داغوں سے پاک ہو جاؤں۔یہ جو مضمون ہے اس کو انبیاء سے بڑھ کر اور کوئی نہیں سمجھتا اس لئے ساری زندگی استغفار میں گزارتے ہیں یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ ان کی بخشش کے وعدے کرتا ہے، کھول کر بیان فرما دیتا ہے کہ تیرے پچھلے گناہ بھی معاف، تیرے اگلے بھی جن کو تو گناہ سمجھ رہا ہے جن کو تو داغ دیکھ رہا ہے اللہ کی نگاہ میں وہ داغ رہے نہیں۔یہ وہ مضمون ہے جو آنحضرت ﷺ کے حوالے سے ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے۔جاہل دشمن سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کہ رہا ہے کہ تیرے گناہ جو پچھلے تھے وہ بھی مٹ گئے جو اگلے تھے وہ بھی معاف کر دوں گا ہر گز یہ مضمون نہیں ہے۔مراد یہ ہے کہ تو اپنی زندگی میں جو داغ دیکھ رہا ہے یہ تیرے انکسار کی انتہا ہے اور آئندہ زندگی بھی ہمیشہ تیری داغوں سے پاک ہی رہے گی۔پس بخشش سے مراد یہ ہے کہ ہم نے تجھے داغوں سے صاف کر دیا ہے، تیری استغفار قبول ہو چکی ہے اور استغفار کا ایسا درجہ کمال تک مقبول ہو جانا یہ آنحضرت ﷺ کی ذات میں ہمیں دکھائی دیتا ہے۔پس یہ گناہوں کی طرف اشارہ کرنے والی آیت نہیں بلکہ گناہوں سے کلیۂ پاک ہو جانے والا مضمون ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے تبھی جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں بتایا تھا آپ کو الحمد عطا ہوئی ہے۔سبحان کی ساری منازل آپ نے طے کی ہیں تب الحمد کے مضمون میں داخل ہوئے ہیں اور شریعت کو اور دین کو درجہ کمال تک پہنچا دیا گیا۔پس ہم نے اس عظیم رسول ﷺ کی پیروی کرنی ہے اور آپ ہی کے صدقے ، آپ ہی کی بدولت ہم نے یہ سارے مضمون سیکھنے اور ان کو اپنی ذات میں جاری کرنا ہے۔پس محض علمی اور عرفان کے مضامین کی بحث کے طور پر میں نے یہ باتیں نہیں چھیڑیں۔میں سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ وہ عملی اقدام ہے جو ہم میں سے ہر ایک کر سکتا ہے خواہ