خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 919
خطبات طاہر جلد 16 919 خطبہ جمعہ 12 / دسمبر 1997ء نہ سمجھیں یہ ایک روزمرہ کے واقعات ہیں جو عام طور پر مفکرین سے وابستہ کئے جاتے ہیں، عام لوگوں میں نہیں کئے جاتے۔میں اپنے آپ کو مفکرین کے شمار میں تو نہیں لاتا مگر بیماری وہی ہے جو مفکرین اور فلسفیوں کو ہو جایا کرتی ہے۔اس لئے اس میں کسی قسم کی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔اگر آپ گھبرائیں تو یہ بیوقوفی ہے۔بعض لوگوں نے مجھے یہاں تک لکھا ہے کہ آپ کو گویا وہ بیماری ہو گئی ہے جس کو (Arteriosclerosis) آرٹیر یوسیکلر وسس کہتے ہیں جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ کو آخری دنوں میں ہو گئی تھی۔اس بیماری کی اور بھی علامتیں ہوتی ہیں۔یہ بیماری جب شروع ہوتی ہے تو چند سالوں میں انسان کو بالآخر عقل کے لحاظ سے نہیں مگر دوسرے معاملات میں ناکارہ کر دیتی ہے اور میں نے ناکارہ ہونا ہوتا تو جس زمانے کی میں بات کر رہا ہوں یعنی مسجد مبارک میں جب ہم نماز پڑھا کرتے تھے میر محمود احمد اور میں اور ہم سب اور ہمیشہ تو نہیں مگر اکثر نماز کے بعد سجدہ سہو کرنا پڑتا تھا۔تو اس وقت سے مجھے گزر جانا چاہئے تھا اس عالم فانی سے اور اس کے بعد میری سوچوں کو معطل ہونا چاہئے تھا۔(Arteriosclerosis) آرٹیر و یوسیکلر وسس کی بیماری تو ٹانگوں کا ستیا ناس کر دیتی ہے اور اب تو مجھ میں اتنی طاقت نہیں مگر ایک زمانے میں ٹانگوں میں اتنی طاقت تھی کہ بہت تیز دوڑ نے والوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا تھا۔اور یہ ذہنی بیماری اس وقت بھی تھی۔سائیکل پر اتنا تیز چلتا تھا کہ مجھ سے ہیں تمہیں سال چھوٹے تھے ان کو بھی چیلنج کرتا تھا کہ آؤ مقابلہ کر لو لیکن نہیں کر سکتے تھے جیسا کہ سویڈن میں ایک صاحب نے مجھ سے خود بیان کیا کہ آپ احمد نگر سے پیچھے سامان لا دے آ رہے تھے۔وہ مجھ سے بہت چھوٹے ہیں غالباً آج آئے ہوئے بھی ہیں یہاں ملاقات کے لئے سویڈن سے۔کہتے ہیں آپ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا میں سائیکل پر تھا بالکل چھوٹا بچہ تھا۔آپ نے کہا کرنا ہے مقابلہ؟ میں نے کہا پھر چلتے ہیں۔کہتے ہیں شروع میں تو آپ ساتھ ساتھ رہے اس کے بعد اتنا پیچھے چھوڑ گئے کہ بہت ہی پیچھے رہ گیا میں تو یہ بیماری (Arteriosclerosis) آرٹیریوسیکلر وسس نہیں ہے۔یہ لوگ جو طبیب بنے پھرتے ہیں ان کو پتا ہی نہیں کہ (Arteriosclerosis) آرٹیر یوسیکلر وسس کیا چیز ہے؟ اس لئے آج کھول کر بتا رہا ہوں خدا کے واسطے میرے ہمدرد بنے پھرنے والے لوگ مجھے یہ باتیں نہ لکھا کریں کیونکہ سوائے اس کے کہ ذہنی الجھن ہو مجھے اور کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچتا یا