خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 918
خطبات طاہر جلد 16 918 خطبہ جمعہ 12 / دسمبر 1997ء میں آئندہ بیان کر دیا جائے گا۔اگر دو چار منٹ جمعہ کے ایک گھنٹے سے کم بھی ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں ( حضور نے اس موقع پر سہواً فرمایا اذان دیں مگر پھر فوراً اس فقرہ کو درست کرتے ہوئے۔فرمایا اب میں بیٹھوں گا، پھر تکبیر کہوں گا اس کے بعد نماز جمعہ پڑھ کر پھر نماز عصر جمع کریں گے۔نماز عصر کے معاً بعد آپ کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔منہ سے غلطی سے بعض دفعہ اذان کا لفظ نکل جاتا ہے کیونکہ عادت ہے اذان کے متعلق کہنے کی۔اس لئے دنیا والے گھبرایا نہ کریں اس بات پر۔یہ کوئی دماغ کی خرابی کی علامت نہیں۔یہ بچپن سے میری عادت ہے اس لئے بعض لوگ لکھتے اس طرح ہیں جیسے پتا نہیں مجھے کیا ہو گیا ہے۔کچھ بھی نہیں ہوا۔میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں اللہ کے فضل سے۔تو ابھی میں بیٹھوں گا پھر میں اٹھ کر مسنون دعائیں آپ کے سامنے پیش کروں گا اس کے بعد پھر نماز جمعہ اور پھر نماز عصر ہوگی۔خطبہ ثانیہ سے قبل حضورانور نے فرمایا: اصل میں میرے دماغ کی ساخت یہ ہے کہ جب ایک مضمون قبضہ کر لے دماغ پر جیسے تیز رفتار موٹر کو ایک دم دائیں بائیں موڑا نہیں جا سکتا اسی طرح یہ میری ساخت شروع ہی سے ایسی ہے اور اگر یہ نقص ہے تو اس نقص کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ نے مجھے اس منصب پر فائز فرمایا ہے کوئی ایسا نقص نہیں ہے جو عمر کے تقاضے سے بعد میں رفتہ رفتہ پیدا ہوا ہو۔بچپن میں یہی حال تھا اور نماز میں بھولنے کی عادت مجھ میں اور میر محمود احمد صاحب اور نواب محمد احمد خان میں اس وقت سے مشترکہ عادت تھی۔یہ باتیں تو لمبی ہیں کیوں بھولتے ہیں اور کیا واقعہ ہوتا ہے یہ میں کسی وقت شاید آئندہ بیان کر دوں لیکن اتنا میں بتا دیتا ہوں کہ جو لوگ بے وجہ گھبرا گھبرا کر خط لکھتے ہیں آپ کو کچھ ہو گیا ہے، آپ کو کچھ ہو گیا ہے۔ان کو کچھ ہو گیا ہے، مجھے کچھ نہیں ہوا۔میرا بچپن سے یہی حال ہے۔اگر اللہ کے نزدیک یہ عادت اور دماغ کی یہ خاص کیفیت خلافت کی راہ میں حائل ہوئی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے ہرگز خلیفہ نہ بنا تا۔اس لئے بچپن سے ہی یہی حال ہے۔جب میں بعض خاص سوچوں میں الجھ جاؤں تو ناممکن ہے کہ ایک دم ان کا رخ دوسری طرف موڑ سکوں اور یہی بات نواب محمد احمد خان میں مجھ سے زیادہ شد ید پائی جاتی تھی حالانکہ بہت بڑے موجد اور بہت بڑے حکیم انسان تھے۔تو یہ فلسفیوں کے متعلق جو کہانیاں سنی ہوئی ہیں آپ نے کہ سوٹی بستر پر ڈال دی اور آپ کونے میں کھڑے ہو گئے ، یہ لطیفے تو ہیں مگر درست بھی ہیں سوچوں کے ہجوم کی وجہ سے ایسا ہو جایا کرتا ہے۔اس لئے اس کو کوئی بیماری