خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 898
خطبات طاہر جلد 16 898 خطبہ جمعہ 5 دسمبر 1997ء تو ایک مقصد بھی ہے اور ایک مقصد پر نظر رکھنے والا بھی ہے یہ ایک دوسری بات ہے۔اس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توجہ دلائی ہے کہ باطل نہیں ہے۔جو اس کو باطل سمجھے گا وہ مٹا دیا جائے گا، اس کی ہستی باطل ہو جائے گی۔پس لذتیں اس لئے عطا کی گئی تھیں کہ ایک مقصد حاصل کرنا تھا۔مقصد کو بھلا کر لذتوں کی پیروی کرو گے تو اسی کا نام دنیا داری ہے، اسی کو مادیت کہا جاتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے تمہیں ملانے کے لئے تمہاری بقاء اپنی ذات سے ملنے کے ساتھ معلق کر دی ہے۔اگر تم رب کے بندے بنو گے اور بندے کی عبودیت کا رب سے تعلق قائم ہوگا تو جتنا یہ تعلق حقیقی ہوگا تمہیں اس کی لذت زیادہ محسوس ہوگی یہاں تک کہ دنیا کی ہر لذت اس کے سامنے حقیر ہو جائے گی۔یہ وہ مضمون تھا جسے بعض بد بخت مولویوں نے نہ سمجھ کر طرح طرح کی پھبتیاں کسیں اور مذاق اڑاتے رہے، اب بھی اڑاتے ہیں۔اپنے لٹریچر میں جواس قسم کی لغویات حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی طرف منسوب کر کے پھیلاتے ہیں کہ گویا نعوذ باللہ من ذلک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں دنیا کی بیویوں کی طرح اپنے رب کے حضور پیش ہوا۔اس قدر جاہلانہ حرکت ہے اور ان سے اس جاہلانہ حرکت کے سوا اور کوئی امید ہو بھی نہیں سکتی ، ان کی اڑان ہے ہی نہیں۔ان کو تو آسمان کی طرف چھلانگ لگانا بھی نصیب نہیں۔یہ دنیا کے کیٹروں کی طرح گندگی چاہتے رہتے ہیں اور اسی مضمون کو خدا کے پاک بندوں کی طرف منسوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس ان کو بھول جائیں، ان کی ایذارسانی کی پرواہ نہ کریں لیکن اس عرفان الہی پر ہاتھ ماریں اور مضبوطی سے اسے پکڑ لیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے پیش فرمایا ہے۔بندے کا رب سے تعلق اس کی بقاء کا ضامن ہے اور اگر عارضی دنیا کی بقاء لذت کا موجب ہوسکتی ہے تو اپنے رب سے دائمی بقاء کے تعلق میں جو لذت آنی چاہئے اگر وہ نہ آئے تو اپنی فکر کریں یقیناً آپ بیمار ہیں۔یہ بیماری ہے جس کی طرف مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بار بار توجہ فرماتے ہیں اور متوجہ کرتے ہیں۔اسی لئے فرمایا: ،، عورت اور مرد کا جوڑ تو باطل اور عارضی جوڑا ہے۔“ جو میں آپ سے عرض کر رہا ہوں یہی بات ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں۔عورت اور مرد کا جوڑ ا ہمارے نزدیک اگر بہت ہی اعلیٰ ہو تو عظیم الشان لذتوں کا حامل ہو