خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 897
خطبات طاہر جلد 16 897 خطبہ جمعہ 5 /دسمبر 1997ء جن جاہلوں کو یہ انعام بانٹے گئے یعنی جہاں اور لوگوں کے علاوہ جاہلوں کو بھی یہ انعام بانٹے گئے وَنَا بِجَانِبِے (بنی اسرائیل:84) وہ تکبر کرتا ہوا، پہلو تہی کرتا ہوا پیچھے ہٹ گیا اور اعراض کیا اس نعمت سے۔جماعت احمدیہ کو اس کی حقیقت کو سمجھنا چاہئے خواہ وہ شروع میں عجیب لگے لیکن بالکل درست ہے کہ ہر اعلیٰ لذت انسان کی تمنا کے آخری نقطے کے حصول کا نام ہے۔اگر دنیا میں رہنا اور دنیا میں رہنے کا ذریعہ لذت کا موجب بن جائے تو اسی کا دوسرا نام جنسی لذت ہے۔انسان جنسی لذت اس لئے حاصل کرتا ہے کہ اس ذریعہ سے اس کا دنیا میں ہمیشہ کے لئے رہنا یعنی اس کی بقا ممکن ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس غرض سے یہ لذت انسان کو عطا فرمائی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ نے یہ لذت نہ عطا کی ہوتی تو کوئی انسان یہ بھیا نک تصور کر بھی نہیں سکتا تھا کہ مرد اور عورت ایک دوسرے سے خلاء ملا کریں۔وہ پاگل تو نہیں ہو گئے خواہ مخواہ خلاء ملا کریں۔ایک دوسرے کو جوتیاں ماریں اور دھکے دیں کہ یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم لوگ اور نسل انسانی دنیا سے مٹ جاتی مگر جنسی تعلقات اس کو جاری رکھنے کے ضامن نہ بن سکتے۔فرمایا یہ بقاء لذت ہے اصل میں ، اسے رفتہ رفتہ جنسی لذت سمجھ لیا گیا آخری تجزیہ میں بقاء کی لذت کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔فرمایا بندہ اپنے رب سے تعلق کی بناء پر ایک دائی بقاء حاصل کرتا ہے ایسی بقاء جسے دنیا کی بقاء کے مقابل پر وہی نسبت ہے جیسے آسمان کے مقابل پر زمین کو ہو۔زمین زمین ہی ہے آسمان آسمان ہی ہے۔پس اس آسمانی تعلق کو لوگ تعجب سے دیکھیں کہ اس کا جنس کے ساتھ کیا رشتہ بنالیکن ناسمجھ ہیں جو اس تعلق کو نہیں سمجھ سکتے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھول کھول کر بیان فرمایا ہے بقاء کے سوا جنس کی اور کوئی لذت نہیں ہے اور اگر اس بقاء کے خیال کو چھوڑ دو گے تو رفتہ رفتہ یہ لذتیں سب غائب ہو جائیں گی۔اس کا ایک ثبوت ہم نے اس دنیا میں اس دور میں دیکھا ہے۔ہم جنس پرست رفتہ رفتہ خدا کی لعنتوں کا شکار ہورہے ہیں اور مٹائے جارہے ہیں۔ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں اور معاشرے کو مبتلا کر رہے ہیں جو نسل انسانی کی بیخ کنی کر رہی ہیں اور ان کے مقابلے کی کوئی طاقت نہیں ہے۔اب یہ آئندہ وقت آئندہ چند سال آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی تقدیران لوگوں کا صفایا کر رہی ہے جیسے حضرت لوط کے زمانے میں ان بد بخت بستیوں کا صفایا کیا گیا تھا۔