خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 890
خطبات طاہر جلد 16 890 خطبہ جمعہ 5 دسمبر 1997ء ہمیں عطا ہوگی اور تمام نئے آنے والوں کی صحیح تربیت کی توفیق عطا ہوگی۔پس اس پہلو سے میں شاید چند خطبے نماز ہی پر دوں کیونکہ جتنا پھل ان خطبوں کو لگا ہے اس سے پہلے شاید کبھی کسی دور کے خطبوں کو ایسا پھل نصیب نہیں ہوا۔جن لوگوں کی روحانی کیفیتیں بدل جائیں، جب دل پلٹ جائیں، جب نمازوں کے لئے لوگ الٹ الٹ کر سجدوں میں پڑیں تو اس سے زیادہ اور کیا حاصل ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آج کل عبادات اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے اس کی وجہ ایک عام زہریلا اثر رسم کا ہے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہو رہی ہے اور عبادت میں جس قسم کا مزہ آنا چاہئے وہ مزہ نہیں آتا۔دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس میں لذت اور ایک خاص حظ اللہ تعالیٰ نے نہ رکھا ہو۔جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیز کا مزہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ اسے تلخ یا پھیکا سمجھتا ہے اسی طرح وہ لوگ جو عبادت الہی میں حظ اور لذت نہیں پاتے ان کو اپنی بیماری کا فکر کرنا چاہئے۔“ یہ وہ احساس ہے جواب بیدار ہوا ہے۔پہلے لوگ بیمار تو تھے مگر بیماری کا فکر نہیں کرتے تھے ، وہ فکر نہیں جاگا تھا۔اب بار بار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نمازوں کے متعلق اقتباسات پیش کرنے کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ وہ فکر جاگ اٹھا ہے اور بیمار اپنے آپ کو بیمار سمجھنے لگا ہے۔اگر کوئی بیمارا اپنے آپ کو صحت مند سمجھ رہا ہو تو وہ بیماری اس کے لئے جان لیوا بھی ثابت ہو تو اس کو پتا نہیں چلتا، اندر ہی اندر سے کھاتی چلی جاتی ہے لیکن بیماری کا احساس پیدا ہونا کہ ہم بیمار ہیں یہی صحت کی طرف اٹھنے والا پہلا قدم ہے۔دنیا میں تو یہ ہوتا ہے کہ صحت کی طرف بڑھنے کے لئے انسان قدم اٹھاتا تو ہے مگر صحت نصیب نہیں ہوتی۔بسا اوقات اچھا معالج میسر نہیں آتا بعض دفعہ اچھے معالج کو صحیح علاج نہیں سوجھتا، بعض دفعہ حالات کے تقاضے، غربت اور دوسرے گھر یلو مسائل راہ میں حائل ہو جاتے ہیں۔ملک ملک کا فرق ہے۔کسی ملک میں ترقی یافتہ علاج نصیب ہیں ،کسی ملک میں نہیں نصیب۔غرضیکہ بہت سے ایسے عوامل ہیں جو صحت کا احساس بیدار ہونے کے باوجود ایک مریض کو