خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 851 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 851

خطبات طاہر جلد 16 851 خطبہ جمعہ 21 /نومبر 1997ء وابستہ ہے۔نماز کے بغیر ناممکن ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو درجہ معراج تک پہنچائے۔فرماتے ہیں: اس دین میں ہزاروں لاکھوں اولیاء اللہ ، راست باز، ابدال، قطب گزرے ہیں۔انہوں نے یہ مدارج اور مراتب کیونکر حاصل کئے ؟ اسی نماز کے الله ذریعے سے۔خود آنحضرت یہ فرماتے ہیں: قُرَّةُ عَینی فی الصلوۃ یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے اور فی الحقیقت جب انسان اس مقام اور درجے پر پہنچتا ہے تو اس کے لئے اکمل اتم لذت نماز ہی ہوتی ہے۔“ ہے۔اب یہ بھی دو الگ الگ باتیں دکھائی دیتی ہیں حالانکہ ان کے درمیان ایک گہرا تعلق۔راست باز ابدال قطب گزرے ہیں انہوں نے یہ مدارج اور مراتب کیونکر حاصل کئے ؟ اسی نماز کے ذریعے سے اور حضور اکرم ﷺ کے متعلق جو اس کے معا بعد آپ نے فرمایاوہ اس بات سے کچھ مختلف دکھائی دیتا ہے۔فرمایا: خود آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں: قُرَّةُ عَینی فی الصلوۃ یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔“ مراد یہ ہے کہ وہ جو مراتب گزشتہ بزرگوں نے طے کئے اس لئے طے کئے کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز تھی۔اگر آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں نہ ہو تو ہر گز نماز کے ذریعہ سے انسان وہ بلند مراتب حاصل نہیں کر سکتا جو نماز اسے عطا کر سکتی ہے۔پس یہ آنکھوں کی ٹھنڈک کا مسئلہ ہے۔نماز میں آنکھوں کی ٹھنڈک پیدا ہونا یہ خود بہت محنت طلب مجاہدے کو چاہتا ہے۔پس کیسے یہ مجاہدے کئے جائیں، کیسے یہ محنت ماری جائے یعنی اس محنت میں سر کھپایا جائے یہ مضمون ہے جو آگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی عبارتوں کے پڑھنے سے نسبتاً آسان ہو جائے گا۔فرماتے ہیں: اور فی الحقیقت جب انسان اس مقام اور درجے پر پہنچتا ہے تو اس کے لئے اکمل اتم لذت نماز ہی ہوتی ہے اور یہی معنی آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے ہیں۔پس کشاکش نفس سے انسان نجات پا کر اعلیٰ مقام تک پہنچ جاتا ہے۔“ یہ جو لذت ہے نماز کی اس کے مقابل پر کشاکش نفس رکھی گئی ہے۔نفس ہمیشہ اپنی طرف کھینچتا ہے اور جتنا کامیاب ہوتا ہے اتنا ہی لذت کم ہوتی جاتی ہے۔ظاہر بات ہے کہ نفس کی لذت کا