خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 850 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 850

خطبات طاہر جلد 16 850 خطبہ جمعہ 21 /نومبر 1997 ء مضمون کو بھی ملحوظ رکھتے ہوئے ہے۔گو یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دیکھ رہے ہیں یہ مضمون اس میں داخل ہے۔مگر بہر حال بہت سے علماء چونکہ ظاہری الفاظ کے نیچے نہیں اترتے اس لئے ان کو بسا اوقات تضاد دکھائی دیتا ہے مگر فی الحقیقت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کسی بیان میں ہرگز کوئی تضاد نہیں۔ہمیشہ آپ اسے قرآن وحدیث کے مطابق ہی پائیں گے۔اس مختصر تشریح کے بعد جس کی تفصیل شاید مجھے بعد میں مزید بیان کرنی پڑے میں اب واپس اسی مضمون کی طرف لوٹتا ہوں جہاں سے وہ چھوڑا گیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان الفاظ پر بات ختم ہوئی تھی کہ وہ مومن متقی نماز میں لذت پاتا ہے۔اس کے بعد آپ فرماتے ہیں: اس لئے نماز کو خوب سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے۔نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔“ ( نماز کے متعلق یہ الفاظ غور طلب ہیں ”نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔معراج اور جڑیہ دو مختلف باتیں ہیں۔بیک وقت آپ کا یہ کہنا بعض علماء کو شاید تضاد دکھائی دے حالانکہ ہرگز تضاد نہیں ہے کیونکہ آپ نے ایک سلسلہ قائم فرمایا ہے جڑ کا اس کے منتہی تک۔فرماتے ہیں: ”نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے۔نماز جڑ بھی ہے اور منتہی بھی ہے۔وہ زمینہ بھی ہے جس پر قدم رکھ کر انسان بالآخر اپنے معراج کو پہنچتا ہے۔جو اس کا منتہی کا مقام اللہ کے نزدیک مقدر ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان عبارتوں کو خوب غور سے پڑھیں اور یا درکھیں کہ نماز مومن کا معراج ہے۔معراج کے متعلق یا درکھیں کہ ہر شخص کا معراج الگ الگ ہے اور ہر انسان اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جاتا ہے یا بعض دفعہ نہیں اٹھایا جا تا۔آنحضرت ﷺ کا معراج اور معراج تھا کیونکہ آپ کی پرواز بہت بلند تھی۔وہ زینہ جو آپ کی نماز نے قائم کیا تھا وہ بہت دور تک او پر چلا جاتا تھا۔مگر ہر شخص کی ایک حد مقرر ہے وہ اپنی توفیق سے آگے بڑھ نہیں سکتا۔پس وہ شخص جو نماز کی جڑ کو قائم کرتا ہے پھر وہ زینہ تعمیر کرتا ہے نماز کے ذریعے جو اس کو اس کے معراج تک پہنچاتا ہے۔مراد یہ ہے کہ ہر شخص کی بلندی کا ایک منتہی مقدر ہے اور اگر وہ کوشش کرے تو اس آخری منزل تک پہنچ سکتا ہے جس کے قومی اس کو عطا کئے گئے ہیں اور اگر وہ ایسا کرے گا تو یہ اس کا معراج ہوگا اور یہ معراج نماز کے ساتھ