خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 845
خطبات طاہر جلد 16 845 خطبہ جمعہ 14 نومبر 1997ء زبر دستی گلاس دیں تو اس کو پرے پھینک دے گا۔یہ ہم نے اپنے بچوں میں کئی دفعہ دیکھا ہے کہ جس نعمت سے ان کو سیری ہو چکی ہو وہ نعمت اگر بار بار پیش کی جائے تو وہ نہیں پسند کریں گے۔آپ مہمانوں کو تکلف کے ساتھ یا اس خواہش کے ساتھ کہ وہ خوش ہوں اور زیادہ لذت حاصل کریں بار بار کوئی نعمت کی چیز پیش کرتے ہیں۔کچھ دیر کے بعد میں نے دیکھا ہے کہ ان کے چہرے پر کچھ تھکاوٹ کے آثار آجاتے ہیں۔شروع شروع میں تو کہتے ہیں نہیں نہیں ، ضرورت نہیں لیکن تھوڑا سا ہاتھ بڑھا دیتے ہیں جس سے لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی حیاء کی وجہ سے انکار کیا تھا۔پھر کچھ عرصے کے بعد ان کے انکار میں ایک قسم کی سختی سی پیدا ہو جاتی ہے۔اس وقت شرافت کا تقاضا ہے کہ انسان رک جائے لیکن ہمارے بعض خدمت کرنے والے ایسے بھی میں نے دیکھے ہیں کہ باہر سے معزز مہمان تشریف لائے ہوئے ہیں ان کا چہرہ دیکھتے ہی نہیں کہ واقعہ نہیں چاہتے کہ ان کوکوئی چیز پیش کی جائے۔بار بار وہی چیز پیش کئے چلے جاتے ہیں۔آخر مجھے روکنا پڑتا ہے بس کرو کافی ہوگئی ہے اور وہ نہیں برداشت کر سکتے۔تو یہ ایک ایسا مضمون ہے جس کا خدا تعالیٰ کی ذات سے مادی طور پر تو کوئی تعلق نہیں ہے۔مگر روحانی طور پر یہ تعلق ہے کہ جب پیاس بجھ جائے گی تو خواہش نہیں رہے گی اور جب پیاس ہو گی تو اس خواہش کو پورا ہونے کے نتیجے میں لذت پیدا ہوگی۔اس لذت کو جو بھی آپ نام دے دیں جنسی لذت کہیں یا خوراک کی لذت کہیں مرکزی نقطہ ایک ہی رہتا ہے ان میں کوئی فرق نہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے پیار کی حاجت دل میں پیدا ہو جائے اور وہ حاجت بڑھ جائے تو روحانی لذت اتنی غالب آجاتی ہے کہ ساری مادی لذتیں اس کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتیں ، جب مقابل پر آئیں تو بالکل گر کر ذلیل ہو جاتی ہیں۔پس یہ نہ سمجھیں کہ خدا تعالیٰ ہماری مادی لذتیں پوری کرتا ہے۔مادی لذتوں کی طرح ہمارے دل میں اس کے لئے ایک طلب پیدا ہوتی ہے اور جب وہ طلب پیدا ہو جائے تو ہر دوسری مادی لذت اس کے سامنے حقیر اور بے معنی ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: نماز کے ادا کرنے سے اس کے دل میں ایک خاص سرور اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے جس کو ہر شخص نہیں پاسکتا اور نہ الفاظ میں یہ لذت بیان ہو سکتی ہے اور انسان ترقی کر کے ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اسے ذاتی