خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 843 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 843

خطبات طاہر جلد 16 843 خطبہ جمعہ 14 نومبر 1997ء اس کے لئے ایک قسم کا نشہ ہو جاتی ہے۔(اب وہ نماز ایک قسم کا نشہ ہو جاتی ہے۔جس کے بغیر وہ سخت کرب اور اضطراب محسوس کرتا ہے۔“ یہ مطلب نہیں ہے کہ دو نمازوں کے درمیان انسان ہمیشہ وقت گزارتا ہے تو سخت کرب اور اضطراب کی حالت میں گزارتا ہے۔نشہ کی مثال دے کر ایک بہت ہی لطیف مضمون پیدا فرما دیا گیا ہے۔ایک نشئی کو جب نشہ کی وہ دوامل جائے جسے اب ہم آج کل ڈرگ Drug کہتے ہیں جس سے اسے نشہ کی حالت پیدا ہو جائے تو یہ نشے کی حالت فوراً زائل نہیں ہوا کرتی۔کچھ عرصے کے بعد پھر وہ بھوک چمکتی ہے جیسے کھانا کھانے کے بعد کچھ عرصے تک انسان سیر ہی رہتا ہے، پانی پی کر کچھ عرصے تک انسان سیر ہی رہتا ہے۔یہ نہ سمجھیں کہ دو نمازوں کے درمیان ہر وقت ایک ابتلاء سا آیا ہوا ہے سخت کرب کی حالت ہو، یہ حالت ایسے نہیں ہوا کرتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کو جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں غور سے سنیں ، غور سے سمجھیں تو بات بالکل کھل جاتی ہے۔پیاس بھی مٹ جایا کرتی ہے، بھوک بھی مٹ جایا کرتی ہے، نشہ بھی اتر جایا کرتا ہے مگر پھر بھڑکتا ہے، نشہ بھی بھڑکتا ہے، پیاس بھی بھڑکتی ہے ، بھوک بھی بھڑکتی ہے۔تو اس طرح بار بار انسان خدا کی طرف لوٹتا ہے اور یہی حکمت پانچ نمازوں میں ہے۔وہ انسان جس کو توفیق ہو پانچ وقت کھاتا بھی ہے اور جس کو توفیق ہو پانچ وقت ایسے لذت کے مشروب پیتا بھی ہے کہ اس کی روح سرور پاتی ہے لیکن جسے لذت کے مشروب پینے کی توفیق نہ ہو تو بڑھی ہوئی پیاس ہر پانی کو سب سے زیادہ لذیذ مشروب بنادیتی ہے۔اس لئے غریبوں کے لئے کوئی محرومی نہیں۔ہر شخص دن کے وقت ٹھنڈے پانی سے لطف اٹھا سکتا ہے اور اگر ٹھنڈا پانی نہ بھی نصیب ہو تو جب پیاس بھڑک اٹھے ہر پانی ٹھنڈا لگتا ہے۔ہر پانی انسان اس طرح پیتا ہے کہ اس کی ڈیک نہ ٹوٹے۔پنجابی میں ڈیک ٹوٹنا“ کہتے ہیں ، جی چاہتا ہے پیتا ہی چلا جائے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھیں کس طرح مختلف مثالیں بیان فرما فرما کر نماز کے مضمون کو ہم پر کھول دیا ہے۔فرمایا: اس کی محبت اللہ تعالیٰ سے محبت ذاتی کارنگ رکھتی ہے۔جب یہ کیفیت پیدا ہو جائے خدا تعالیٰ سے ایک ذاتی محبت پیدا ہو جاتی ہے اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی۔“