خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 781 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 781

خطبات طاہر جلد 16 781 خطبہ جمعہ 24 اکتوبر 1997ء بری باتیں عرف عام میں کہا جا سکتا ہے، ان سے بچنا۔ان سے بھی نماز روکتی ہے یعنی نماز کے بعد ایک نمازی کے اندر ایک وقار پیدا ہونا چاہئے۔اگر وہ نماز مقبول ہوئی ہے تو اس کی عادات و اطوار میں، اس کے رہن سہن میں ایک وقار پیدا ہو جائے گا جو قرب الہی کے نتیجے میں پیدا ہونا لازم ہے۔یہ ہوہی نہیں سکتا کہ آپ کی سوسائٹی اچھی ہو اور اس سوسائٹی کو آپ اچھا سمجھتے بھی ہوں اور پھر آپ میں اس سوسائٹی کی خُوبُو نہ پائی جائے۔جن لوگوں میں انسان چلتا پھرتا ہے ان کے رنگ بھی اختیار کرتا ہے۔ایک شاعر نے کہا ہے کہ گل کی مٹی میں بھی گل کی خوشبو آجاتی ہے اور یہ گل کی تاثیر ہے تو نماز کی تا شیر یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ نماز تو تمہیں خدا کے قریب کرنے کے لئے ہے۔اگر نماز قائم ہوگئی ہو اور تم خدا کے قریب ہورہے ہو تو ہر وہ حرکت جو وقار کے منافی ہے اور خدا کی عظمت اور شان کے منافی ہے اس حرکت کو نماز تم سے دور کرتی چلی جائے گی۔یہ ایسی پہچان نہیں ہے جس کے لئے بہت بڑے عارفانہ غور کی ضرورت ہو۔یہ ایسی پہچان ہے جس کو آپ خود روز مرہ جان سکتے ہیں۔نماز کے لئے نکلے اور بیہودہ حرکتیں اور فضول باتیں شروع کر دیں۔آپ کو پتا نہیں لگ سکتا کہ میں بیہودہ حرکتیں کر رہا ہوں اور فضول باتیں کر رہا ہوں اور اس وقت کی پڑھی ہوئی نماز آپ کو اپنے سے دور کر دے گی۔یعنی بظاہر آپ نماز کا قیام کر رہے ہوں گے مگر نماز گرانے والے بنیں گے اور یہ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ نماز کو قائم کرنے والے ہی وہ لوگ ہیں جن کو نماز قائم کرتی ہے۔نماز کو گرانے والے ہی وہ لوگ ہیں جن کو خود نماز گراتی ہے۔پس یہ ایسا رد عمل ہے جو طبعی طور پر خود بخود ظاہر ہو رہا ہے۔وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ اور ان سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔اگر نماز قائم ہو تو وہ ذکر اللہ سے بھر جائے گی۔اگر نماز قائم ہو تو ذکر اللہ سے صرف نماز ہی نہیں بھرے گی بلکہ ایسے شخص کے دن رات ذکر الہی سے بھر جائیں گے۔یہاں تک کہ اس کو کسی دوسری چیز کی فرصت نصیب نہیں ہوگی۔وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ اور یا درکھو کہ اللہ خوب جانتا ہے جو تم کام کرتے ہو یعنی اکثر اپنے اعمال سے انسان غافل رہتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے علم میں ہے۔يد سورۃ العنکبوت کی چھیالیسویں آیت تھی جس کا میں نے ترجمہ اور مختصر تشریح کی ہے۔اب میں صلى الله حضرت اقدس محمد مصطفی اے کے بعض ارشادات نماز ہی کے متعلق آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے۔ابو داؤد کتاب الصلوۃ باب قیام اللیل