خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 755 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 755

خطبات طاہر جلد 16 755 خطبہ جمعہ 10 اکتوبر 1997ء سے کام لیا ہے تو دل دیکھتا ہے، خون کے آنسو روتا ہے۔دعا کرتا ہوں ، ان کو سمجھاتا ہوں مگر اس سے آگے بڑھنا میرے اختیار میں نہیں۔پس اگر پھر بھی وہ مجھے دکھ پہنچانے پر آمادہ ہیں اور اصرار کرتے رہیں تو وہ جوابدہ ہیں لیکن یہ خیال کہ میں بے تعلق ہوں اور مجھے غم نہیں پہنچتا یہ غلط خیال ہے۔جلسہ سالانہ پر آنے والے خاندان کے لوگوں کو میں نے بارہا نصیحت کی کہ ان مصروفیات میں جو خدا کی خاطر شروع ہوئی ہیں ان سے پہلے تمہاری مصروفیات بھی ایک معنوں میں خدا ہی کی خاطر تھیں یعنی ہونی چاہئے تھیں ،مگر جب لمبے سفر کر کے پہنچتے ہو تو تمہارا بنیادی فریضہ ہے کہ اپنی مصروفیات کو خدا کے تابع بناؤ ورنہ تمہارا سارا سفرا کارت جائے گا، کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اگر یہ سفر مجلسوں پر خرچ ہو جائے اور عبادت کے بنیادی فریضے سے وہ غافل ہو۔اس لئے میں نے اپنے گھر میں خاص طور پر با قاعدہ حکماً بھی یہ بات جاری کی کہ شام کے بعد کچھ عرصہ بیٹھنے کے بعد اس گھر کو خالی کرنا ہوگا۔مگر ہمارے دوسرے گھروں میں یہ سارے لوگ منتقل ہوتے رہے۔یہاں سے نکلے تو کسی اور کے گھر چلے گئے اور وہاں جا کر مجلسیں لگا لیں حالانکہ اپنے گھر سے نکالنا بد اخلاقی نہیں تھی بلکہ بنیادی اخلاق کی طرف متوجہ کرنا تھا۔یہ مطلب تو نہیں تھا کہ تم کسی اور کے گھر جا کر بد اخلاقیاں کرو اور ان کو بھی مصیبت میں ڈالو۔وہ بھی جلسے کے تھکے ہارے ساری رات چائے بنا بنا کر تمہاری خدمت کریں اور جب صلوۃ وسطی کا وقت آئے ہم سارے مُردوں کی طرح جا پڑو اور ذرہ بھی زندگی کی رمق تم میں دکھائی نہ دے۔یہ انسانیت نہیں ہے، یہ وہ عبادت نہیں ہے جس کی طرف خدا اور خدا کے رسول کہلاتے ہیں۔پس جہاں تک میرا فرض ہے میں ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔اگر تم لوگ اس فرض کو نہیں سمجھو گے، ادا نہ کرو گے تو میر اسختی سے منع نہ کرنا ہر گز اس بات کو ظاہر نہیں کرتا کہ یہ بات میرے دل کو پسند آئی ہے۔مجھے جو دکھ پہنچتا ہے اللہ بہتر جانتا ہے بارہا میں خدا کی خاطر ان لوگوں کے لئے راتوں کو اٹھ کے رویا ہوں۔اے میرے خدا میں نے ہر ممکن کوشش کر لی کہ ہماری نئی نسلیں نماز پر قائم ہو جائیں مگر شیطان ان کو دوبارہ بہکا دیتا ہے اس لئے تو میری مدد فرما اور ان کی حفاظت فرما۔اس دنیا میں بھی یہ کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی کامیاب ہوں۔میرے یہ آنسو جو مجبوری کے آنسو ہیں یہ ایک دل کی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ مضمون کی اہمیت کی وجہ سے ہیں۔اس بچی کو بھی یاد کرو جو اپنے خاوند کی نماز سے عدم توجہ کی وجہ سے روئی تھی مگر اس کا تو ایک خاوند تھا میری تو ساری جماعت ہے جو اپنے