خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 747
خطبات طاہر جلد 16 747 خطبہ جمعہ 10 اکتوبر 1997ء حالات کی وجہ سے جو قومی ہوں یا انفرادی ہوں وَالصَّلوة الوسطی کا معنی بھی ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔۔وَالصلوة الوسطی اس نماز کو کہا جاتا ہے جو عین کاموں کے بیچ میں آئے ، یعنی ظہر کی نماز مراد نہیں ہے جو وسطی نظر آتی ہے، وقت کے لحاظ سے بیچ میں دکھائی دیتی ہے بلکہ وَالصَّلوةِ الْوُسطی وہ نماز ہے جو انسان کے کاموں کے بیچ میں آئے ، جہاں اس کا ادا کرنا مشکل ہو جائے اور یہ نماز آج کل کے تجربے سے ثابت ہوتا ہے کہ صبح کی نماز ہے۔سب سے زیادہ عدم توجہی صبح کی نماز پر ہے اور خاص طور پر ان معاشروں میں جن میں راتوں کو دیر تک جاگنے کا رواج ہے صبح کی نماز کو سب سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ انسان کوسب سے بڑا نقصان صبح کی نماز پہ توجہ نہ دینے کے نتیجے میں پہنچتا ہے اور یہ ایک ایسی بیماری ہے جو بعض بڑے بڑے اچھے سمجھے جانے والے خاندانوں میں بھی ہے بلکہ زیادہ متمول خاندانوں میں یہ بیماری زیادہ پائی جاتی ہے۔اکثر میں نے دیکھا ہے کہ ایسے لوگ راتیں دیر تک جاگ کر گزارتے ہیں اور مجلسیں گپوں سے بجتی ہیں۔ہر قسم کی باتیں جن کا زندگی کی حقیقوں سے کوئی تعلق نہ بھی ہو، محض کپڑوں کی باتیں ہی ہوں، ان باتوں میں بے حد وقت خرچ کیا جاتا ہے اور جب صبح تھک ہار کر انسانی توجہ میں کوئی جان نہ رہے اور گہری توجہ کے ساتھ نماز پڑھنے کی اہلیت ہی نہ رہے اس وقت وہ تھکے ہارے سو جاتے ہیں اور پھر صبح دس گیارہ بجے آنکھ کھلی جب کہ نماز ہاتھ سے نکل گئی اور یہ اس آیت کریمہ کے بعینہ مخالف بات ہے۔یہ بیماری ہر گھر میں پائی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ غرباء میں نسبتا کم ہے۔جن کے پاس رات کو مجلسیں لگانے کا وقت نہ ہو، دن کے تھکے ہارے گھر آکر سو جاتے ہوں ان کو اس قسم کی عیاشی کا وقت ہی نہیں ملتا ، نہ ان کے نزدیک یہ کوئی عیاشی ہے کہ جیسا بھی ہوا روکھی سوکھی کھا کر سونے والے اس کے بعد پھر جاگیں اور بے وجہ مجلسیں لگائیں، یہ فطرت کے خلاف بات ہے۔مجلسیں لگانے والوں کے ہاں عموماً چائے بھی چلتی ہے، وقتا فوقتا کھانے کی دوسری چیزیں بھی پیش ہوتی ہیں اور پھر ان کو مجلس کا مزہ آتا ہے اور مجلس خوب رچتی ہے لیکن یہ مجلس اللہ کی مجلس نہیں۔ایسی مجلس کے خلاف آنحضرت ﷺ نے مختلف رنگ میں مختلف وقتوں میں بڑی سختی سے اظہار فرمایا۔پر جماعت احمدیہ کو ز سر و صیح راستے پر گامزن کرنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ تلخ مثالیں