خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 746
خطبات طاہر جلد 16 746 خطبہ جمعہ 10 اکتوبر 1997ء اچھے ہوتے ہیں لیکن ان کی بظا ہر نظر آنے والی نیکی اور باقی باتوں میں اچھا ہونا دراصل ان کے مزاج کا حصہ ہے، ان کے ایمان کا حصہ نہیں۔ایمان کے نتیجے میں جو نیکی عطا ہو اور ایمان کے نتیجے میں اگر مزاج سدھریں تو یہ ہو نہیں سکتا کہ ایسا انسان نماز پر قائم نہ ہو کیونکہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کی جبروت کا جو گہرا اثر انسان کے دل پر پڑتا ہے اس سے پہلا تقاضا اس کی عبادت کا اٹھتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کا دل پر اثر ہے تو ناممکن ہے کہ اس کی عبادت کی طرف دل متوجہ نہ ہو۔پس اس پہلو سے مجھے آج کے جمعہ کے لئے یہی مضمون سمجھ آیا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دو بڑی جماعتوں کی طرف سے مطالبہ کہ ہمیں آج اس جمعہ پر کوئی ٹارگٹ دیا جائے اور اس بچی کا جو اثر دل پر تھا ان سب نے مل کر مجھے آج کے جمعہ کے لئے نماز کے موضوع پر دوبارہ گفتگو کرنے کا موقع عطا کیا ہے۔اس موضوع پر میں بارہا پہلے بھی خطبات دے چکا ہوں مگر معلوم ہوتا ہے دیر ہو گئی تھی اور جماعت کو دوبارہ متوجہ کرنے کی ضرورت تھی۔سورۃ فاتحہ کے بعد آج کی تلاوت کے لئے یہ آیت میں نے چنی حفِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَالصَّلوةِ الْوُسْطَى وَقَوْمُوا لِلَّهِ قَنِتِينَ (البقرة:239) اپنی نمازوں کی حفاظت کے لئے مستعد ہو جاؤ۔وَالصَّلوةِ الْوُسطی اور خصوصیت کے ساتھ صلواۃ وسطیٰ کی طرف توجہ کرو اور اس میں کسی قسم کا جھول نہ آنے دو۔وَقُومُوا لِلَّهِ قُنِتِينَ اور اللہ تعالیٰ کے حضور فرمانبرداری اختیار کرتے ہوئے کھڑے ہو جاؤ۔یہاں وَالصَّلوةِ الْوُسطی سے کیا مراد ہے؟ اس موضوع پر میں کچھ گفتگو کروں گا اور مزید نماز سے متعلق حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے بعض ارشادات جو پہلے بھی میں پیش کر چکا ہوں اب دوبارہ آپ کے سامنے پیش کروں گا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تین اشارے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئے تھے یہ بے غرض نہیں ہیں بلکہ اب پھر ضرورت ہے کہ جماعت کو دوبارہ نماز کی طرف متوجہ کیا جائے۔اس ضمن میں اردو کلاس پر بھی مجھے یہی موقع ملا کہ ان کو نماز سکھانی شروع کروں اور اگر چہ وہ بچے اکثر انگریزی جانتے تھے لیکن اردو کلاس میں بھی انہیں صلى الله خاص طور پر نماز سکھانے کا موقع ایسا ملا ہے جس سے میں سمجھتا ہوں کہ سب دنیا کو فائدہ پہنچے گا۔پہلی بات وَالصَّلوةِ الْوُسطی سے تعلق رکھتی ہے۔ہر قوم کے لئے مختلف حالات ہوا کرتے ہیں۔اسی طرح انفرادی طور پر لوگوں کے حالات بدلتے رہتے ہیں ان بدلتے ہوئے