خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 739 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 739

خطبات طاہر جلد 16 739 خطبہ جمعہ 3 اکتوبر 1997ء پس اب جو مجھے ملاقات کے وقت لوگ کہتے رہے ہیں میں نے ان کو یہی جواب دیا کہ آپ انتظار کریں اس کو چھپنے دیں تو آپ خود ہی خواہ ساری کتاب نہ بھی پڑھیں چند ابواب پڑھ لیں وہی آپ کے لئے بہت بہتر ہیں۔جتنے مریض بھی میرے سامنے اس ملاقات کے دوران آئے ہیں ان میں ایک بھی ایسا نہیں جن کے متعلق اس کتاب کے ان ابواب میں ذکر موجود نہ ہو جو میں دوبارہ دیکھ چکا ہوں۔اس وقت تک خدا کے فضل سے دو سو صفحات کی میں دہرائی کر چکا ہوں اور امید ہے کہ واپس پہنچتے پہنچتے اڑھائی سو کم سے کم صفحات ہیں جن کی دہرائی ہو چکی ہوگی۔ان کو اگر ہم شائع کروانا شروع کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوبارہ شائع کرنے کے بعد آپ پہلی سے موازنہ کر کے دیکھیں گے تو آپ کو سمجھ آئے گی کہ میں کیا کہ رہا ہوں لیکن اس ضمن میں ایک خوشخبری بھی ہے۔وہ خوشخبری یہ ہے کہ ایک صاحب نے مجھ سے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ میرا نام ظاہر نہ کیا جائے مگر اگلی کتاب جو تصحیح شدہ ہوگی اس کا سارا خرچ میں دوں گا تا کہ آپ کے دل پہ یہ بوجھ نہ ہو کہ پہلی کتاب پر لوگوں نے خواہ مخواہ پیسے خرچ کئے۔جو بھی اپنی پہلی کتاب آپ کو واپس کرے آپ اس کو مفت یہ کتاب دے دیں۔تو اب یہ بات بھی میرے دل سے اٹھ گئی ، اس کا بوجھ بھی میرے دل سے اٹھ گیا کہ جو بے چارے پہلے خرید بیٹھے ہیں ان کا کیا بنے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ ان کونی تصیح شدہ کتاب اس شرط کے ساتھ ملے گی کہ پہلی واپس کر دیں۔جو پہلی ہے چاہے ہم اس کو بھاڑ میں ڈالیں یا کسی اور بیچارے کو دے دیں جس کے پاس خریدنے کی طاقت نہیں کہ زور مارو اور دیکھو جتنا فائدہ بھی پہنچے اتنا ہی بہتر ہے۔مگر بہر حال یہ بھی ایک کینیڈا کے سفر کا فائدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں پہنچا ہے۔اب میں ایک اور معاملے کے متعلق بات کرنا چاہتا ہوں وہ گیمبیا کی تازہ ترین صورت حال ہے اور اس سلسلہ میں جماعت کو تسلی دینا چاہتا ہوں۔گزشتہ تین خطبات میں میں گیمبیا کا ذکر کر چکا ہوں کہ کس طرح یہ صورت حال پلٹا کھاتی رہی ہے۔کبھی اونچی کبھی بچھی کبھی ایسے آثار ظاہر ہوئے کہ گویا سب مسائل حل ہو گئے اور حکومت گیمبیا اب پہلے کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ جماعت کی ہر نیک کوشش میں ممدو معاون ہوگی، کبھی عملاً ان کی دورخی کہ جماعت کے امیر کو جو چٹھی لکھی ہے کہ ہمارے یہ فیصلے تھے وہ ان تمام فیصلوں کے برعکس جو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر دنیا کو بتائے گئے۔اس قسم کی ایسی چالیں چلتے رہے ہیں یہ لوگ کہ اس کا طبیعت پر بہت اثر تھا اور ایک خطبہ میں میں نے غالبا یہ