خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 738 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 738

خطبات طاہر جلد 16 738 خطبہ جمعہ 3 اکتوبر 1997ء کلاس میں حاضر ہونے والے مردوں اور عورتوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں کچھ بھی ہمارے پلے نہیں پڑے گا، ہمیں سمجھ آہی نہیں سکتی اور اگر سمجھ نہیں آ رہی تو ہم آتو جائیں گے مگر فائدہ کیا۔ان سے میں نے کہا کہ میں ایک بالکل نئی طرز میں یہ لیکچر ز دوں گا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دئے گئے اور اس طرز میں آپ کے دماغ پر ذرہ بھی بوجھ نہیں ہوگا کہ آپ ان باتوں کو سنیں اور پھر یاد کرنے کے لئے رہیں۔آپ بے تکلفی سے کہانی کی طرح ان باتوں کو سنتے رہیں۔اس وجہ سے اس کتاب میں ایک نئی چیز پیدا ہوئی جو اس سے پہلے کبھی کسی کتاب میں نہیں دیکھی گئی۔شروع ہی سے میں نے ان باتوں کو جن کو میں سمجھتا تھا کہ دہرائے بغیر وہ دلوں میں بیٹھ نہیں سکتیں بار بار دہرانا شروع کیا اور سنے والوں کے اوپر ان کا بوجھ کم کرنے کے لئے ان کو دہرایا گیا ہے۔اس وجہ سے جو بھی کوئی پڑھے گا وہ اسے تکرار نہ سمجھے بلکہ اصرار سمجھے۔بعض باتوں پر اصرار کیا گیا ہے جب تک وہ بار بار سنی نہ جائیں یا پڑھی نہ جائیں از خود یاد نہیں ہوں گی۔پس آپ گزرتے چلے جائیں گے اور آپ کے دل میں از خود ہو میو پیتھی کا مضمون بیٹھتا چلا جائے گا اور دوسری بات اس میں اب دہرائی کے دوران میں نے یہ محسوس کی ہے کہ شروع کے ایک دو ابواب میں ہی دراصل ساری کتاب کا خلاصہ آچکا ہے کیونکہ جب بھی کسی بیماری کا ذکر ہوا۔مثلاً مرگی کا تو اس کے متعلق وہ دوا جو مرگی سے تعلق میں تھی اس کو سمجھانے کی خاطر وہ ساری دوائیں بیان کیں جو مرگی سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا فرق کیسے کیا جائے ، کیوں ایک کو چنا جائے ، کیوں دوسری کو چھوڑ دیا جائے۔پیاس کا میں نے ذکر کیا تھا کہ ذکر ہی کوئی موجود نہیں حالانکہ کتاب میں اس تفصیل سے ذکر ہے کہ بعض باتیں خود میرے لئے بھی علم میں اضافہ نہیں، دوبارہ دیکھنے سے یاد آ گئیں کہ پیاس کئی قسم کی ہے۔منہ خشک ہوتا ہے، منہ گیلا ہو پھر بھی پیاس لگتی ہے، پیاس بجھنے میں ہی نہیں آتی تھوڑے تھوڑے پانی کی پیاس، زیادہ پانی کی پیاس، اس کا جگر سے کیا تعلق ہے، دل سے کیا تعلق ہے، معدے سے کیا تعلق ہے، کون کون سی دوائیں اس میں کام آتی ہیں۔وہ ساری دوائیں جو بعد میں بیان کرنی تھیں وہ شروع میں بیان کر دی ہیں اور بیان کرتا چلا گیا ہوں۔اتنی دفعہ بیان کی ہیں کہ پڑھنے والا اگر پڑھتا چلا جائے اور دماغ پر زور نہ دے تو اس کے پہلے دو ابواب پڑھ کر ہی ایک اچھا بھلا ہو میو پیتھ ڈاکٹر بن سکتا ہے کیونکہ آئندہ آنے والی دوائیں انہی ابواب میں مذکور ہیں، ان کی تفریقی علامتیں اسی کتاب میں موجود ہیں۔