خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 731 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 731

خطبات طاہر جلد 16 731 خطبہ جمعہ 3 اکتوبر 1997ء مجھے دلچپسی رہی اور اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان علوم کی گہرائی تک اترنے میں میں نے صرف کیا لیکن علم نہیں تھا کہ کیوں ایسا کر رہا ہوں۔اب جب یہ کتاب لکھنے کی ضرورت پیش آئی تو میں حیران ہوا کہ وہ ساری باتیں جو میں نے چالیس چالیس سال پہلے پڑھی ہوئی تھیں ان سب کی مجھے ضرورت تھی۔پس ساری زندگی کے میرے علم کی جستجو کا یہ ماحصل ہے اور اس پہلو سے مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ جب بھی کسی متعلقہ حصے کو اس علم کے ماہر کو دکھایا گیا اس نے کبھی اس پر ایسا اعتراض نہیں کیا کہ تم اس کو سمجھ نہیں سکے، اصل مراد کچھ اور تھی۔بہر حال اس کتاب کے متعلق میں یہ عرض کر سکتا ہوں کہ : سپردم به تو مایه خولیش را تو دانی حساب کم و بیش را (شرف نامه نظامی از نظامی گنجوی) کہ اے اللہ تیرے سپرد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک خواہش کا اظہار ہے، ایسا اظہار ہے جو دنیا پر قرآن کی برتری کو ثابت کرنے والا ہے اس لئے اگر کچھ کمزوری ہوگئی ہے اور ہوئی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اس سے صرف نظر فرمائے اور آئندہ اسے بہتر بنانے کی توفیق ملے۔اس سلسلے میں ایک واقعہ جو بیان کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ مجھے یہ خواہش ہوا کرتی تھی کیونکہ یقین تھا کہ دنیا کو اس کتاب کی ضرورت ہے کہ اگر مجھے ایک لاکھ ڈالرمل جائے تو اس کی وسیع اشاعت کے لئے اور غیروں تک ، ماہرین تک اس کتاب کو پہنچانے کے لئے مجھے بہت اچھی ابتداء ہل جائے گی یعنی آغاز اس کا اچھا ہو جائے گا اور اپنی اس خواہش کا کبھی نہ کسی سے ذکر کیا، نہ ارادہ تھا لیکن کل آتے ہوئے موٹر میں ایک خط میرے نام تھا لطف الرحمن صاحب کا ، اس میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے والدین کی طرف سے اور اپنی طرف سے ایک لاکھ ڈالر اس طبع ہونے والی کتاب کے لئے پیش کروں۔اب ایک لاکھ ڈالر کا ویسے تو عدد ایسا ہے جس کی خاص ذکر کی ضرورت نہیں تھی ، جماعت ماشاء اللہ اب کروڑوں سے اربوں میں پہنچ رہی ہے۔مگر یہ ایک لاکھ ڈالر مجھے بہت پسند آئے کیونکہ ایک خواہش کا اظہار تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اس طرح پورا فرمایا۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ایک رنگ میں ایک غیبی تائید بھی ہے اور امید ہے کہ انشاء اللہ اب جلد، بہت جلد یہ کتاب طبع ہو کر سامنے آجائے گی۔اس ضمن میں کل ہی مجھے ایک کتاب ملی ہے جو رفیع صاحب جو