خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 722
خطبات طاہر جلد 16 722 خطبہ جمعہ 26 ستمبر 1997ء انشاء اللہ تعالیٰ ہو میو پیتھی کا فیض جو سارے عالم پر محیط ہوگا اس سے بنی نوع انسان کی بڑی خدمت ہوگی اور غریب احمدی گھروں کے اوپر ایک احسان ہوگا کہ وہ مغرب میں بستے ہوں یا مشرق میں بستے ہوں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اپنے علاج میں خود کفیل ہو جائیں گے۔اس لئے یہ آخری بات ہے جو مجھے آپ سے کہنی تھی۔اب خطبہ کا وقت ختم ہونے میں صرف پانچ منٹ باقی ہیں۔اس میں میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ خطبہ میں میں نے جو گیمبیا کے متعلق جماعت کو خوشخبری دی تھی اگر چہ وہ بعینہ درست تھی ، لفظاً لفظ وہ اعلان جو حکومت گیمبیا کی طرف سے ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخباروں کو دیا گیا تھا وہ میں نے جماعت کے سامنے رکھ دیا تھا۔اس کا وہ حصہ جو اس بدبخت مولوی کی ذلت و رسوائی سے تعلق رکھتا تھا وہ جیسا اس وقت درست تھا ویسا اب بھی درست ہے اور گیمبیا کی حکومت کو یہ جرات نہیں ہے کہ اگر وہ مولوی بکواس کرے بھی تو اس کو شائع کروا کے خود اپنی ذلت کا سامان کرے۔اس مولوی کو صدر کی طرف سے اور اس وزیر کی طرف سے جس نے ساری شرارت میں بنیادی کردار ادا کیا ہے ایسی گندی گالیاں پڑ چکی ہیں کہ جو مباہلہ اس پر ٹوٹا تھا وہ ٹوٹ گیا ہے بلکہ ٹوٹ پڑا ہے اور اب جو کچھ ہو کوئی اس تقدیر کو بدل نہیں سکتا۔جو تبدیلی ہے وہ اور قسم کی ہے۔تبدیلی یہ واقع ہوئی ہے کہ دنیا کو دکھانے کے لئے انہوں نے جماعت احمدیہ کے متعلق ایسے ایسے اعلان کئے جن پر عمل کرنے کی ہرگز ان کی نیست نہیں تھی۔حکومت صرف یہ چاہتی تھی کہ بڑی تشہیر ہوان باتوں کی گیمبیا میں اندر بھی اور باہر بھی جس سے ساری دنیا کے احمدی جو مشتعل ہو کر ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں وہ اپنے ہاتھ اٹھا لیں اور کہیں سب کچھ ٹھیک ہو گیا اور وہ حکومتیں جو گیمبیا کی حیثیت کے متعلق متفکر تھیں اور افریقہ کی حکومتیں خاص طور پر جو گیمبیا کو بتارہی تھیں کہ تم اب درست ہو جاؤ ورنہ تم افریقہ کا حصہ نہیں رہو گے یا تمہیں لازماً انصاف کی حکومت کو قبول کرنا ہوگا اور یہ انصاف کا معاملہ اپنے تمام شہریوں سے برابر کرنا ہوگا یا پھر ان حکومتوں کی پیروی میں جو مذہبی انتہا پسند اور جنونی ہیں اپنا تعلق افریقہ کے ملکوں سے کاٹو اور جہاں جانا ہے چلے جاؤ۔یہ دباؤ تھا جو بڑے زور اور شدت کے ساتھ افریقن ممالک اور ان کی حکومتوں نے گیمبیا کی حکومت پر ڈالا تھا اور بعض بیرونی مغربی ممالک بھی اس میں شامل تھے۔ان کو دکھانے کی خاطر انہوں نے ٹیلی ویژن پر وہ ساری باتیں بیان کیں کہ ہم تو سو فیصدی سیکولر ہو چکے ہیں اور دیکھ لو